بدھ , جنوری 28 2026

یورپی یونین کا ’ایکس‘ پر 120 ملین یورو کا جرمانہ

یورپی یونین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کی شفافیت سے متعلق شقوں کی خلاف ورزی پر 120 ملین یورو کا تاریخی جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف یورپی قانون کے تحت اپنی نوعیت کی پہلی بڑی کارروائی ہے بلکہ اس نے اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یورپی یونین نے ایلون مسک کی ملکیت والے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مجموعی طور پر 1 کروڑ 20 لاکھ یورو (140 ملین ڈالر) کا جرمانہ دو سالہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد عائد کیا۔ یہ تحقیقات 27 رکنی یورپی بلاک کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت شروع ہوئی تھیں، جو بڑے آن لائن پلیٹ فارمز کو صارفین کے تحفظ، نقصان دہ مواد کی روک تھام اور زیادہ شفافیت یقینی بنانے کا پابند بناتا ہے۔

یورپی کمیشن کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ڈی ایس اے کے تحت کسی کمپنی کو باضابطہ طور پر ’نان کمپلائنٹ‘ قرار دے کر اتنی بڑی کارروائی کی گئی ہو۔ حکام نے کہا کہ ’ایکس‘ نے شفافیت سے متعلق تین بنیادی قواعد کی خلاف ورزی کی، جن میں بلیو چیک مارک سسٹم میں تبدیلی، اشتہارات کے ڈیٹا بیس میں معلومات کا فقدان اور محققین کے لیے عوامی ڈیٹا تک رسائی میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

جرمانے کی تین بڑی وجوہات

1۔ بلیو چیک سسٹم میں تبدیلی
کمیشن کے مطابق شناخت کی تصدیق کا نظام ایک خریدے جانے والے فیچر میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے صارفین کو غلط فہمی کا سامنا ہوا۔

2۔ اشتہارات کے ڈیٹا بیس میں خامیاں
ریگولیٹرز کے مطابق یہ واضح نہیں ہوتا کہ اشتہار کس نے دیا اور کیوں مخصوص صارفین کو دکھایا گیا۔

3۔ محققین کے لیے ڈیٹا تک محدود رسائی
کمیشن نے کہا کہ عوامی معلومات پر قدغنیں خطرات کی نشاندہی کے عمل کو متاثر کرتی ہیں۔

امریکی حکام کا شدید ردعمل

’ایکس‘ پر جرمانے کے بعد امریکا میں سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اسے ’’تمام امریکی ٹیک کمپنیوں پر حملہ‘‘ قرار دیا، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ یورپی یونین کمپنی کو ’’سینسرشپ نہ کرنے‘‘ کی وجہ سے نشانہ بنا رہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ پہلے بھی یورپی ڈیجیٹل قوانین کو امریکی کمپنیوں کے خلاف جانبدارانہ قرار دیتی رہی ہے اور جوابی اقدامات کا اشارہ دیتی رہی ہے۔

یورپی یونین کا مؤقف

یورپی کمیشن نے امریکی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی خالصتاً قانونی تقاضوں کے مطابق کی گئی ہے۔ کمیشن کے ترجمان تھامس ریگنیئر نے واضح کیا کہ ’’ہم کسی کمپنی کو اس کے ملک کی بنیاد پر نشانہ نہیں بناتے۔‘‘

ادھر ’ایکس‘ کی جانب سے اس فیصلے پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ’ایکس‘ کا اشتہارات کا ڈیٹا بیس، ڈیٹا ایکسیس ٹولز اور شفافیت کا نظام ڈی ایس اے معیار سے ہم آہنگ نہیں۔ اس میں تکنیکی رکاوٹیں، معلومات کی کمی اور گمراہ کن فیچرز شامل ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین نے ٹک ٹاک کے خلاف ایک علیحدہ کارروائی اس بنیاد پر بند کر دی ہے کہ پلیٹ فارم نے سیاسی اور تجارتی اشتہارات میں شفافیت بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

لائبہ خان کا مدینہ منورہ میں نکاح

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ لائبہ خان نے شادی کے بندھن میں بندھ کر …