منگل , جنوری 27 2026

عمران خان جسمانی طور پر صحت مند

اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان نے ان سے ملاقات کے بعد بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم جسمانی طور پر بالکل صحت مند ہیں، تاہم وہ قید تنہائی (solitary confinement) اور بیرونی دنیا سے مکمل رابطے منقطع کیے جانے پر شدید غصے میں ہیں۔

انہوں نے جیل میں اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک کا براہِ راست ذمہ دار آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ٹھہرایا ہے۔

یہ ملاقات پی ٹی آئی کے اس دعوے کے بعد ممکن ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ جیل حکام عدالتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی لگا رہے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے وکلاء کی رسائی میں رکاوٹوں اور جیل میں فراہم کردہ سہولیات کے غیر معیاری ہونے کی شکایات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔

تنہائی اور ذہنی دباؤ کی شکایات عظمیٰ خان کے مطابق، عمران خان نے دورانِ ملاقات شکایت کی کہ انہیں دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھا جا رہا ہے اور کسی سے بات چیت کی اجازت نہیں، جس کا مقصد انہیں ذہنی اذیت دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم اس بات پر نالاں ہیں کہ عدالتی احکامات کے باوجود انہیں ان کے قانونی مشیروں اور اہل خانہ سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔

850 دن کی قید اور مطالبات اگست 2023 سے زیر حراست عمران خان کی قید کو اب 850 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ان پر متعدد مقدمات درج ہیں جنہیں پی ٹی آئی سیاسی بنیادوں پر قائم کردہ مقدمات قرار دیتی ہے۔ پارٹی نے اپنے لیڈر کی فوری رہائی اور جیل میں بہتر سہولیات اور قانونی رسائی کے مطالبات کو دہرایا ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ کا رویہ اور عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جبکہ کارکنان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے قائد کے ساتھ یہ رویہ برقرار رہا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …