
پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی بین الاقوامی فوڈ اور ایگریکلچر نمائش فوڈ ایگ 2025 کا آغاز پیر کو کراچی ایکسپو سینٹر میں ہوگیا، جس کا افتتاح وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کیا۔
تین روزہ نمائش میں 350 پاکستانی کمپنیاں اپنی زرعی اور فوڈ ایکسپورٹ مصنوعات دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہیں، جبکہ 80 سے زائد ممالک سے 800 سے زیادہ پری کوالیفائیڈ عالمی خریدار کراچی پہنچ چکے ہیں، جو کسی بھی تجارتی ایونٹ کے لیے پاکستان آنے والا سب سے بڑا خریدار وفد ہے۔
نمائش کا تھیم “Harvesting Innovation, Cultivating Sustainability” رکھا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان کے ممتاز ایکسپورٹرز اپنی اعلیٰ قدر کی حامل مصنوعات جیسے باسمتی چاول، خشک آم، کینو، کھجوریں، ہمالین پنک سالٹ، سمندری غذائیں، حلال گوشت، ڈیری مصنوعات، مصالحہ جات اور ویلیو ایڈڈ فوڈز نمائش میں پیش کر رہے ہیں۔ ایونٹ 25 سے 27 نومبر تک جاری رہے گا، جس کے دوران ہزاروں B2B ملاقاتیں طے ہیں۔
ریکارڈ خریدار وفد میں ایشیا کے 300 سے زائد معروف درآمد کنندگان شامل ہیں۔ چین کی بڑی سرکاری و نجی کمپنیاں، ملائیشیا کا برناس، انڈونیشیا کا PT Laris Manis Utama، اور سری لنکا کے اہم بزنس گروپس ایونٹ میں سرگرم ہیں۔ یورپ سے سریا فوڈز (یورپ کا سب سے بڑا باسمتی خریدار)، AIB Foods، Aytac Foods، Sciffens & Co (بیلجیم) اور ترکیہ کی Migros نمائش میں موجود ہیں۔
خلیجی خطے سے Mercury ME DMCC، Cinder Trading قطر اور The Ocean Fisheries بحرین کے وفود شریک ہیں۔ افریقہ کے کینیا، صومالیہ، روانڈا، کیمرون، انگولا اور ماریشس سمیت متعدد ممالک سے 200 سے زائد خریدار موجود ہیں، جبکہ آسٹریلیا، کینیڈا، امریکہ اور روس کے نمایاں خریداری گروپس بھی اس ریکارڈ وفد کا حصہ ہیں۔
نمائش میں پائیداری، فوڈ ٹریس ایبلٹی اور فوڈ لاجسٹکس پر نو اعلیٰ سطحی کانفرنسیں منعقد ہوں گی۔ اس کے علاوہ ایک خصوصی فوڈ پویلین میں پانچ براعظموں سے آئے ہوئے 21 عالمی شہرت یافتہ شیف صرف پاکستانی اجزاء کے ساتھ لائیو کُکنگ کریں گے، جس سے پاکستان کی فوڈ شناخت کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنانے کا موقع ملے گا۔
توقع ہے کہ فوڈ ایگ 2025 پاکستان کی فوڈ ایکسپورٹس کے لیے ایک فیصلہ کن قدم ثابت ہوگا، جس سے دنیا بھر کے خریداروں کے ساتھ نئی شراکت داریوں، بڑی ڈیلز اور طویل مدتی کاروباری تعاون کی راہیں کھلیں گی۔
UrduLead UrduLead