منگل , جون 30 2026

امریکہ، ایران مذاکرات پر تضاد برقرار

تہران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جاری

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران نے امریکہ سے مذاکرات کی درخواست کی ہے اور آج دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی باضابطہ ملاقات طے نہیں ہوئی۔ تاہم وزارت کے مطابق منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی سے متعلق امور پر پیش رفت کے لیے ماہرین کا ایک وفد دوحہ بھیجا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی نمائندے قطر روانہ ہو رہے ہیں، جہاں ایران کے ساتھ ایک “اہم ملاقات” ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

ادھر ایران نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں ہوں گے جب تک واشنگٹن دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر مکمل عملدرآمد نہیں کرتا، جس میں ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔

عالمی منڈی میں بھی ممکنہ مذاکرات کی خبروں کے اثرات دیکھنے میں آئے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ایک فیصد کمی کے ساتھ 72.51 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔

دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور ایران۔امریکہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی اور انتظام مکمل طور پر ایران کی ذمہ داری ہے اور کسی بیرونی ملک کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی حمایت نہیں کرتا، تاہم بحری تحفظ، ماحولیاتی نگرانی اور نیویگیشنل سروسز کے بدلے رضاکارانہ بنیادوں پر سروس چارجز پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔

ادھر اسرائیل کی جانب سے جنوبی شام میں حالیہ فوجی کارروائیوں اور دراندازی کی ترکیہ، سعودی عرب، کویت، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل (GCC) نے شدید مذمت کی ہے۔ ان ممالک نے اسرائیلی اقدامات کو شام کی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شپنگ ڈیٹا کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جاری ہے، اگرچہ حالیہ کشیدگی کے بعد جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

آسٹریلیا نے بھارت کو ٹی20 ورلڈ کپ سے باہر کر دیا

پاکستان سمیت سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل دیگر ٹیموں کے لیے اہم میچ میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے