ہفتہ , جون 27 2026

گو پیٹرولیم کے اعلیٰ حکام کے خلاف مقدمہ درج

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گو پیٹرولیم اور اس کے اعلیٰ حکام کے خلاف مبینہ طور پر کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی کی اربوں روپے کی چوری کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ادارے کے مطابق کمپنی پر 32 ہزار میٹرک ٹن سے زائد بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات غیر قانونی طور پر مارکیٹ میں فروخت کرنے کا الزام ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

ایف آئی آر کے مطابق ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ الزام ہے کہ ایک پیٹرولیم درآمد کنندہ کمپنی اور پورٹ قاسم پر قائم کسٹمز سے لائسنس یافتہ بانڈڈ فیول ٹرمینل آپریٹر نے درآمد شدہ بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات کو کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکس اور لیوی کی ادائیگی سے قبل ہی مارکیٹ میں فروخت کر دیا۔

تحقیقات کے مطابق 22 جون کو مظفرگڑھ کے علاقے محمود کوٹ میں واقع اسٹوریج ٹرمینل کے معائنے کے دوران صرف 7,039.7 میٹرک ٹن بانڈڈ پیٹرول موجود تھا، جبکہ کسٹمز اور پائپ لائن ریکارڈ کے مطابق وہاں 39 ہزار میٹرک ٹن سے زائد ایندھن موجود ہونا چاہیے تھا۔ اس طرح تقریباً 32,081 میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات کی کمی سامنے آئی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ یہ ایندھن پورٹ قاسم سے ایک آئل کمپنی کے کراس کنٹری پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے محمود کوٹ منتقل کیا گیا تھا۔ چونکہ یہ مصنوعات بانڈ کے تحت تھیں، اس لیے کسٹمز کلیئرنس اور ڈیوٹی کی ادائیگی سے قبل انہیں فروخت یا استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا، تاہم تحقیقات میں ایسی کوئی کسٹمز دستاویز سامنے نہیں آئی۔

ایف آئی اے نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ اس سے قبل پورٹ قاسم ٹرمینل سے تقریباً 4,744 میٹرک ٹن بانڈڈ ہائی آکٹین فیول بھی مطلوبہ کسٹمز دستاویزات کے بغیر فروخت کیا گیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس حوالے سے شواہد ٹرمینل منیجر کے لیپ ٹاپ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے بھی ملے ہیں۔

مقدمے میں گو پیٹرولیم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیت متعدد کمپنی عہدیداروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ریکارڈ میں ردوبدل، جعلی دستاویزات کے استعمال اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ سرکاری اور نجی شعبے کے مزید افراد اس معاملے میں ملوث تو نہیں۔

دوسری جانب گو پاکستان کے ترجمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی اپنے تمام قانونی ٹیکس اور لیوی واجبات مقررہ مدت کے اندر ادا کرتی ہے اور کمپنی کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت تمام واجبات کلیئر ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ کمپنی متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور شفاف انداز میں تحقیقات میں حصہ لے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ معاملہ زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس کے مخصوص نکات پر فی الحال تبصرہ نہیں کیا جائے گا، تاہم کمپنی قوانین کی مکمل پاسداری اور صارفین کو بلاتعطل ایندھن کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بھارت کی پاکستان کو 7-1 سے شکست

قومی ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی برقرار پاکستان ہاکی ٹیم کو ایک اور مایوس کن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے