
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے بورڈ نے پیر کے روز اسلام آباد میں شہری خدمات کی بہتری کے لیے تین نئی ایجنسیوں کے قیام کی اصولی منظوری دے دی۔ ان میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ایجنسی، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی اسلام آباد (PHAI) اور اسلام آباد واٹر ایجنسی شامل ہیں۔
سی ڈی اے بورڈ کا اجلاس چیئرمین سہیل اشرف کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف انتظامی اور پالیسی امور پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نئی ایجنسیاں انتظامی طور پر سی ڈی اے کا حصہ رہیں گی، تاہم انہیں زیادہ خودمختاری دی جائے گی تاکہ شہری خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر اور تیز بنایا جا سکے۔
اجلاس میں ماحولیات ونگ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک علیحدہ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (PMU) کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ اس یونٹ کا مقصد ماحولیات ونگ کے منصوبوں کو انجینئرنگ ونگ کی براہِ راست مداخلت کے بغیر مؤثر انداز میں مکمل کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ممبر ماحولیات عبداللہ خرم نیازی کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر بورڈ نے پی ایم یو کے قیام کی منظوری دی۔ اس یونٹ کے ذریعے ماحولیات، شجرکاری، پارکس اور دیگر ماحولیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد ممکن بنایا جائے گا۔
تاہم بعض سرکاری حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پی ایم یو میں ایسے انجینئرز تعینات کیے جائیں جن کی پیشہ ورانہ ساکھ بہتر ہو۔ ایک سینئر عہدیدار کے مطابق چند ایسے انجینئر بھی اہم عہدوں کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں جن پر ماضی میں بدعنوانی یا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگ چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں ایک ایسا افسر بھی شامل ہے جس کی دو سالانہ ترقیوں میں کٹوتی کی جا چکی ہے اور جس کے بارے میں ماضی میں ٹینڈرز کے اجرا سے قبل منصوبوں پر کام شروع کرنے کے الزامات سامنے آئے تھے۔
سی ڈی اے کے حالیہ فیصلوں کو اسلام آباد میں بلدیاتی اور شہری خدمات کے نظام کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ نئی ایجنسیوں کے قیام سے صفائی، پارکس کی دیکھ بھال اور پانی کی فراہمی کے شعبوں میں بہتر کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے۔
UrduLead UrduLead