
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ 10 جون کو پیش نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان آج وزارتِ خزانہ کی جانب سے متوقع ہے۔
ایوانِ صدر کے ذرائع کے مطابق بجٹ کی پیشی مؤخر کرنے کا فیصلہ صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ سے متعلق بعض اہم مالی اور بین الحکومتی امور تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے، جس کے باعث شیڈول میں تبدیلی کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی معاملات، خصوصاً صوبوں کی جانب سے وفاق کو 1700 ارب روپے فراہم کرنے کے مجوزہ منصوبے پر ابھی مزید مشاورت درکار ہے۔ اس حوالے سے تکنیکی کمیٹیوں کی تشکیل آج متوقع ہے، جو مختلف تجاویز کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کریں گی۔
بجٹ شیڈول میں تبدیلی کے باعث قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اجلاس بھی آج کے بجائے 10 جون کو منعقد ہوگا، جہاں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی اور معاشی اہداف پر غور کیا جائے گا۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ بجٹ کے متعدد اہم نکات ابھی زیرِ غور ہیں اور انہیں حتمی شکل دینا باقی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ حکومت مختلف معاشی معاملات پر مشاورت کر رہی ہے اور بجٹ کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں ہے، تاہم وقت کی کمی اور محرم الحرام کے پیشِ نظر شیڈول کو حتمی بنانے میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق بجٹ میں ممکنہ ٹیکس اصلاحات، آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات، صوبائی مالیاتی شراکت اور ترقیاتی اخراجات کے حجم جیسے اہم معاملات پر اتفاقِ رائے ضروری ہے، جس کے باعث بجٹ کی تاریخ میں ردوبدل کیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے بجٹ کی نئی تاریخ اور نظرثانی شدہ پارلیمانی شیڈول کا اعلان آج متوقع ہے۔
UrduLead UrduLead