220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز کی تجویز

وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جبکہ نئے مالی سال کے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات، جی ایس ٹی میں اضافے اور ٹیکس نظام میں اصلاحات پر غور جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کے لیے زور دیا ہے تاکہ محصولات میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں دونوں فریقین کے درمیان تفصیلی مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حجم 15.1 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 15.5 ٹریلین روپے تک رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ دوسری جانب رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف مزید کم کر کے 13 ہزار 5 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، تاہم محصولات میں نمایاں کمی کے باوجود آئی ایم ایف آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار ارب روپے سے زائد کا ٹیکس ہدف مقرر کرنے پر زور دے رہا ہے۔
مجوزہ بجٹ میں تقریباً 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے تک فروخت کرنے والے کاروباری افراد کو 25 ہزار روپے سالانہ فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
اس اسکیم کے تحت رجسٹرڈ تاجروں کو آڈٹ سے استثنا دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے محصولات کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں مزید ٹیکس اقدامات شامل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ کارپوریٹ سیکٹر کے لیے سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ممکنہ ریلیف پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس سلیبز میں ردوبدل اور آخری ٹیکس سلیب کی حد بڑھانے کی تجویز زیر بحث ہے، تاہم حتمی فیصلہ آئی ایم ایف سے مزید مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایک جانب محصولات میں اضافہ اور مالیاتی خسارے پر قابو پانے کا چیلنج درپیش ہے، جبکہ دوسری جانب عوام اور کاروباری طبقے کو ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے توازن قائم کرنا بھی ضروری ہوگا۔ نئے بجٹ کے خدوخال آئندہ چند روز میں حتمی شکل اختیار کرنے کی توقع ہے۔
UrduLead UrduLead