بدھ , اپریل 22 2026

PTCL منافع میں واپسی مگر پائیداری پر سوالات

پی ٹی سی ایل گروپ نے 3.07 ارب روپے منافع رپورٹ کیا مگر اخراجات، قرض اور ایک وقتی عوامل پائیداری پر خدشات بڑھا رہے ہیں

اسلام آباد میں Pakistan Telecommunication Company Limited گروپ نے حالیہ مالی نتائج میں 3.07 ارب روپے خالص منافع رپورٹ کیا۔ یہ نتیجہ گزشتہ نقصانات کے بعد نمایاں بحالی ظاہر کرتا ہے۔ تاہم مالی اعداد و شمار کی گہرائی سے جانچ پائیداری پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔

کمپنی کے آپریٹنگ اخراجات میں تیز اضافہ نمایاں رہا۔ انتظامی اور عمومی اخراجات 48 فیصد بڑھ کر 12.38 ارب روپے ہو گئے۔ سیلنگ اور مارکیٹنگ اخراجات 60 فیصد اضافے کے ساتھ 6.32 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ یہ اضافہ بڑی حد تک ٹیلی نار پاکستان کے انضمام سے جڑے اخراجات اور پروموشنل سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔

یہ اخراجات قلیل مدت میں توسیع اور انضمام کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ مگر یہی رجحان برقرار رہا تو منافع کے مارجن دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹیلی کام شعبے میں مسابقت پہلے ہی شدید ہے اور لاگت کنٹرول نہ ہونے پر کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

دیگر آمدنی میں بھی واضح کمی دیکھی گئی۔ یہ مد 29 فیصد کم ہو کر 3.95 ارب روپے رہ گئی۔ ماضی میں یہی آمدنی کمپنی کے منافع کو سہارا دیتی رہی ہے۔ اس کمی کے بعد اب بنیادی آپریشنل کارکردگی زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

فنانس لاگت میں اضافہ ایک اور بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ سودی اخراجات 10 فیصد بڑھ کر 14.87 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ بلند شرح سود اور کمپنی کا بھاری قرضہ ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ پالیسی کے مطابق بلند شرح سود نے کارپوریٹ سیکٹر کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔

کمپنی کے جمع شدہ نقصانات مالی سال 2025 تک 50 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ صورتحال مالی لچک کو محدود کرتی ہے اور مستقبل کی سرمایہ کاری پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ٹیلی کام سیکٹر میں بھاری کیپیکس کی ضرورت پہلے ہی ایک بڑا دباؤ سمجھی جاتی ہے۔

ٹیکسیشن نے بھی منافع کو متاثر کیا۔ کمپنی نے 2.12 ارب روپے ٹیکس چارج ریکارڈ کیا۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.58 ارب روپے کا ٹیکس کریڈٹ ملا تھا۔ اس تبدیلی نے قبل از ٹیکس منافع کے فائدے کو نمایاں حد تک کم کر دیا۔

کمپنی نے شیئر ہولڈرز کے لیے کسی ادائیگی کا اعلان نہیں کیا۔ نہ کیش ڈیویڈنڈ دیا گیا اور نہ بونس شیئرز جاری کیے گئے۔ یہ فیصلہ عام طور پر ٹرن اراؤنڈ مرحلے میں دیکھا جاتا ہے جہاں کمپنی منافع کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

نتائج کا ایک اہم پہلو غیر معمولی اور ایک وقتی عوامل پر انحصار ہے۔ کمپنی کو متوقع کریڈٹ لاسز میں 52.7 ملین روپے کی واپسی ملی۔ گزشتہ سال اسی مد میں 5.22 ارب روپے کی بڑی پروویژن رکھی گئی تھی۔ ایسے عوامل مستقبل میں دہرائے نہیں جا سکتے۔

ریونیو میں 58 فیصد اضافہ اور آپریٹنگ منافع میں 564 فیصد چھلانگ بنیادی طور پر ٹیلی نار پاکستان کے نتائج شامل ہونے سے آئی۔ یکم جنوری 2026 سے انضمام کے اثرات مکمل طور پر ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ اس کے برعکس آرگینک گروتھ نسبتاً محدود رہی۔

وائر لائن بزنس میں حقیقی نمو تقریباً 6.5 فیصد رہی۔ یہ اشارہ دیتا ہے کہ روایتی بنیادی کاروبار اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق ملک میں براڈبینڈ اور موبائل ڈیٹا کی مانگ بڑھ رہی ہے مگر مسابقتی قیمتیں مارجن کم کر رہی ہیں۔

ٹیلی نار پاکستان اور یوفون کے انضمام سے مواقع بھی ہیں اور خطرات بھی۔ انضمام کے عمل میں آپریشنل پیچیدگیاں اور ریگولیٹری تقاضے سامنے آ سکتے ہیں۔ اضافی اخراجات اور ہم آہنگی کے مسائل قلیل مدت میں نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یو بینک سے جڑے مسائل بھی بدستور موجود ہیں۔ نان پرفارمنگ لونز اور پروویژننگ کی ضروریات مالی دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے حالیہ ڈیٹا کے مطابق مائیکروفنانس سیکٹر میں رسک مینجمنٹ ایک اہم چیلنج بنا ہوا ہے۔

اسٹینڈ الون وائر لائن بزنس نے تقریباً 0.9 ارب روپے منافع کمایا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ گروپ کی مجموعی بحالی میں موبائل اور بینکاری حصے زیادہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ روایتی سروسز کی کارکردگی اب بھی محدود ہے۔

پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں حالیہ برسوں میں تیز تبدیلیاں آئی ہیں۔ ڈیٹا استعمال میں اضافہ اور 4G توسیع نے ریونیو کے نئے ذرائع پیدا کیے۔ مگر ریگولیٹری فیس، سپیکٹرم اخراجات اور مسابقتی دباؤ نے منافع کو محدود رکھا ہے، جیسا کہ پی ٹی اے اور انڈسٹری رپورٹس میں بتایا گیا ہے۔

حکومت کی ڈیجیٹل پاکستان پالیسی اور براڈبینڈ پھیلاؤ کے منصوبے طویل مدت میں مواقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم کمپنیوں کو قرض، اخراجات اور انضمام کے مسائل پر قابو پانا ہوگا۔ انہی عوامل پر Pakistan Telecommunication Company Limited کی آئندہ کارکردگی کا دارومدار رہے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

زیادہ پھل اور سبزیاں کھانے سے کینسر کا خطرہ؟

صحت بخش غذا، جس میں زیادہ پھل، سبزیاں اور ہول گرینز شامل ہوتے ہیں، کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے