ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے ویب سائٹس بلاک کرنے کی درخواست

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک میں ادویات کی غیر قانونی آن لائن فروخت اور اشتہارات کے بڑھتے رجحان پر سخت نوٹس لیتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے متعلقہ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کو فوری طور پر بلاک کرنے کی درخواست کر دی ہے۔
ڈریپ کی جانب سے بھیجی گئی درخواست میں متعدد آن لائن پلیٹ فارمز کی نشاندہی کی گئی ہے جو مبینہ طور پر غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی ادویات فروخت کر رہے ہیں۔ ادارے کے مطابق تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بھارت اور ایران سے اسمگل شدہ ادویات پاکستان میں آن لائن فروخت کی جا رہی ہیں، جو عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
حکام نے سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس پر نسخے کے بغیر ادویات کی تشہیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈریپ کے مطابق جنسی صحت، وزن میں کمی اور ذہنی امراض سے متعلق ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی ہے اور اس سے شہریوں کو خود علاج (Self-medication) کی جانب راغب کیا جا رہا ہے، جو خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
ڈریپ نے واضح کیا ہے کہ بغیر اجازت ادویات کی تشہیر اور فروخت ڈرگ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ادارے کے مطابق غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات نہ صرف شدید مضر اثرات پیدا کر سکتی ہیں بلکہ بعض صورتوں میں جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
اتھارٹی نے اشتہارات کے لیے پیشگی منظوری کو لازمی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانے، ادویات کی ضبطی اور قانونی مقدمات شامل ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں، ڈریپ نے پی ٹی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے تعاون سے غیر قانونی ادویات کے اشتہارات فوری طور پر ہٹائے جائیں۔ ساتھ ہی عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اور غیر مستند آن لائن ذرائع سے ادویات خریدنے سے گریز کریں تاکہ اپنی صحت کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
UrduLead UrduLead