کینیڈا کے کپتان پر میچ فکسنگ اور جرائم پیشہ گینگ سے روابط کے الزامات

بھارت میں ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے دوران ایک سنگین تنازع سامنے آیا ہے جس نے عالمی کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نیوزی لینڈ اور کینیڈا کے درمیان کھیلے گئے میچ میں مبینہ میچ فکسنگ کے الزامات کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کینیڈا کے کپتان دلپریت باجوہ پر نہ صرف میچ فکسنگ بلکہ بدنام زمانہ لارنس بشنوئی گینگ سے روابط کے بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
کینیڈین نشریاتی ادارے کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر بشنوئی گینگ کینیڈین کرکٹ کے انتظامی اور سلیکشن کے معاملات پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض کھلاڑیوں پر دباؤ ڈال کر میچ فکسنگ کی کوششیں بھی کی گئیں۔
تحقیقات کے دوران ایک اور تشویشناک پہلو سامنے آیا ہے، جس کے مطابق جولائی 2025 میں برٹش کولمبیا کے ایک ریسٹورنٹ میں گینگ کے کارندوں نے ایک کینیڈین کھلاڑی کو دھمکیاں دیں کہ اگر وہ باجوہ کی ٹیم میں شمولیت اور ترقی کی حمایت نہیں کرے گا تو اسے اور اس کے خاندان کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سدھو موسے والا اور بابا صدیقی کے قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث یہی گینگ مبینہ طور پر دلپریت باجوہ کے کیریئر کو تیزی سے آگے بڑھانے میں کردار ادا کرتا رہا۔
آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ خاص طور پر نیوزی لینڈ کے خلاف کینیڈا کے گروپ میچ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس میچ میں 174 رنز کے ہدف کے تعاقب کے دوران باجوہ نے پانچواں اوور کرایا جس میں ایک نو بال اور ایک وائیڈ سمیت 15 رنز دیے گئے۔ نیوزی لینڈ نے یہ ہدف صرف 15.1 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا، جس نے شکوک کو مزید تقویت دی۔
کیس میں ایک نیا موڑ سابق کینیڈین کوچ خرم چوہان کے انکشافات سے آیا ہے۔ ایک مبینہ فون ریکارڈنگ منظر عام پر آئی ہے جس میں کرکٹ کینیڈا کے سابق صدر امجد باجوہ اور سی ای او سلمان خان کوچ پر مخصوص کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے اور بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے سنائی دیتے ہیں۔
چوہان کے مطابق یہ دباؤ میچ فکسنگ کی کوششوں کا حصہ تھا۔ مزید برآں، موجودہ صدر اروندر کھوسہ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے سلیکٹرز کی رائے کے برخلاف باجوہ کو کپتان بنانے میں اثر و رسوخ استعمال کیا۔
ایک گواہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ باجوہ کی کپتانی کی مخالفت کرنے پر اسے اور دیگر کھلاڑیوں کو گینگ کی جانب سے تصاویر اور پیغامات کے ذریعے ہراساں کیا گیا۔
اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے دستیاب شواہد کو تسلیم کر لیا ہے، تاہم اب تک کسی حتمی کارروائی یا باضابطہ مؤقف سے گریز کیا جا رہا ہے۔ ان الزامات نے نہ صرف کینیڈین کرکٹ بلکہ عالمی سطح پر ٹی20 ورلڈ کپ کی شفافیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
UrduLead UrduLead