پیر , اپریل 20 2026

ایران کا دوسرے دور کے مذاکرات میں شرکت سے انکار

ایران نے امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں مجوزہ دوسرے دور کے مذاکرات میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے اسے دباؤ اور سیز فائر خلاف ورزیوں کا نتیجہ قرار دیا، جس سے خطے میں سفارتی کوششوں کو دھچکا لگا۔

ایران نے پیر کو امریکہ کے ساتھ دوسرے دور کے مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا جو اسلام آباد میں ہونا تھے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تہران نے یہ فیصلہ واشنگٹن کے مبینہ غیر حقیقی مطالبات اور پالیسی میں تضادات کے باعث کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ مسلسل اپنا مؤقف بدل رہا ہے اور سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نیول سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے حالات میں بامعنی مذاکرات ممکن نہیں رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکی وفد میں جیرڈ کشنر، اسٹیون وِٹکوف اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہوں گے، تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔

یہ تنازع خلیج کے اہم تجارتی راستے آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے اس علاقے میں کسی بھی کشیدگی کے عالمی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستان نے ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تقریباً 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ایرانی صدر نے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا، تاہم واضح کیا کہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ریڈ زون میں داخلے پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں، تاہم ایران کے انکار کے بعد صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کا فقدان مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 2018 میں امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔

اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کی تیل برآمدات پابندیوں کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ دوسری جانب امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال معاشی طور پر بھی اہم ہے کیونکہ اس کی بڑی توانائی ضروریات درآمدات پر انحصار کرتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق توانائی درآمدات ملک کے مجموعی درآمدی بل کا بڑا حصہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ خلیجی خطے میں جہاز رانی کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اس سے عالمی معیشت اور علاقائی استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ تاہم ایران کے حالیہ فیصلے کے بعد یہ سفارتی عمل ایک اہم موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے اور اس کے نتائج خطے کے امن پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

زلمی نے کوئٹہ کو 118 رنز سے ہرایا

بابر اعظم کی سنچری سے زلمی نے 255 رنز بنائے، گلیڈی ایٹرز 137 پر ڈھیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے