اتوار , اپریل 19 2026

تربوز کی پیداوار، گرمی میں طلب میں اضافہ

موسمِ گرما میں بڑھتی طلب اور کاشت کے رقبے میں اضافے سے تربوز کی اہمیت بڑھ گئی

پاکستان میں تربوز کی فصل اس موسمِ گرما میں نمایاں اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ اس کی طلب میں تیزی آئی ہے اور کسانوں نے کاشت کا رقبہ بڑھایا ہے۔

تربوز، جسے مقامی طور پر گرمیوں کا اہم پھل سمجھا جاتا ہے، اپنی کم قیمت اور زیادہ پانی کی مقدار کے باعث عوام میں مقبول ہے۔ پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع میں کاشتکاروں نے اس سیزن میں بہتر پیداوار کی اطلاع دی ہے، جس کی وجہ موزوں موسمی حالات اور آبپاشی کی بہتر دستیابی بتائی جاتی ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق ملک میں پھلوں کی مجموعی پیداوار گزشتہ پانچ برسوں میں مسلسل بڑھی ہے اور 2024 میں یہ 7.5 ملین ٹن سے تجاوز کر گئی۔ اگرچہ تربوز کا حصہ کینو اور آم کے مقابلے میں کم ہے، تاہم رحیم یار خان، ملتان اور ٹھٹھہ جیسے علاقوں میں اس کی کاشت میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کاشتکاروں کے مطابق تربوز نسبتاً کم مدت میں تیار ہونے والی فصل ہے جو 70 سے 90 دن میں پک جاتی ہے، جس سے انہیں فوری مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ تاہم کھاد اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے لاگت بڑھا دی ہے، جس سے منافع کے مارجن پر دباؤ آیا ہے۔

لاہور اور کراچی کی منڈیوں میں تاجروں کے مطابق تھوک قیمتیں 25 سے 40 روپے فی کلوگرام کے درمیان رہیں، جبکہ شہری علاقوں میں نقل و حمل اور ذخیرہ اخراجات کے باعث خوردہ قیمتیں زیادہ رہیں۔ سیزن کے آغاز میں قیمتیں نسبتاً بلند رہتی ہیں جو سپلائی بڑھنے پر کم ہو جاتی ہیں۔

پاکستان میں مئی اور جون کے مہینوں میں شدید گرمی پڑتی ہے اور درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ برسوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ٹھنڈے اور پانی سے بھرپور پھلوں کی طلب بڑھ گئی ہے۔

ماہرین غذائیت کے مطابق تربوز میں 90 فیصد سے زائد پانی ہوتا ہے اور یہ وٹامن اے اور سی سے بھرپور ہوتا ہے، جو اسے گرمی میں صحت بخش انتخاب بناتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ پھل شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں یکساں مقبول ہے۔

گزشتہ دہائی میں کاشتکاروں نے جدید زرعی طریقے اپنانا شروع کیے ہیں جن میں ڈرپ اریگیشن اور ٹنل فارمنگ شامل ہیں۔ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کے مطابق ڈرپ اریگیشن سے پانی کے استعمال میں 40 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے جبکہ پیداوار کے معیار میں بہتری آتی ہے۔

حکومتی زرعی پالیسیوں نے بھی اس شعبے پر اثر ڈالا ہے۔ 2025 کے زرعی پیکیج میں کھاد اور بیج پر سبسڈی دی گئی جس سے مجموعی زرعی پیداوار میں بہتری آئی۔ اگرچہ توجہ گندم اور کپاس پر مرکوز رہی، لیکن پھلوں کے کاشتکار بھی اس سے بالواسطہ مستفید ہوئے۔

برآمدات کے لحاظ سے تربوز کی گنجائش ابھی محدود ہے، تاہم خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور عمان میں اس کی مانگ موجود ہے۔ برآمد کنندگان کے مطابق معیار کی عدم یکسانیت، کولڈ چین کی کمی اور فریٹ اخراجات بڑی رکاوٹیں ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حالیہ پالیسی بیانات میں زرعی برآمدات کو متنوع بنانے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ باغبانی کے شعبے میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں، بشرطیکہ سپلائی چین کے مسائل حل کیے جائیں۔

بعد از برداشت نقصانات بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 20 فیصد پیداوار ناقص ذخیرہ، خراب ترسیل اور غیر مناسب ہینڈلنگ کے باعث ضائع ہو جاتی ہے، جس سے کسانوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

شہری علاقوں میں جدید ریٹیل چینز اور آن لائن پلیٹ فارمز کے فروغ نے مارکیٹ کے رجحانات کو تبدیل کیا ہے۔ یہ ادارے براہ راست فارم سے خریداری کرتے ہیں، جس سے کسانوں کو بہتر قیمت ملتی ہے، تاہم روایتی منڈی نظام اب بھی غالب ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی بھی اس فصل کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ بے وقت بارشیں اور شدید گرمی پیداوار اور معیار دونوں کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے مستقبل میں پیداوار میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ ہے۔

ان چیلنجز کے باوجود تربوز پاکستان کے زرعی اور صارفین کے منظرنامے میں اہم مقام رکھتا ہے۔ کم قیمت اور آسان دستیابی اسے مہنگائی کے دور میں بھی عوام کے لیے قابلِ رسائی بناتی ہے، جبکہ پالیسی ساز اس شعبے کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ تربوز سمیت باغبانی کے شعبے کو فروغ دیا جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

انطالیہ اجلاس: چار ملکی رابطہ تیز

ترکی، سعودی عرب، پاکستان اور مصر نے انطالیہ میں علاقائی بحرانوں پر مشاورت تیز کرنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے