ترکی، سعودی عرب، پاکستان اور مصر نے انطالیہ میں علاقائی بحرانوں پر مشاورت تیز کرنے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اظہار کیا

انطالیہ میں ترکی، سعودی عرب، پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جہاں خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کے جاری بحرانوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ یہ ملاقات Antalya Diplomacy Forum 2026 کے موقع پر ہوئی، جس میں سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی طور پر بڑھتی نظر آئیں۔
اجلاس کی میزبانی ترک وزیر خارجہ Hakan Fidan نے کی، جبکہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ Faisal bin Farhan Al Saud، پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق چاروں ممالک نے علاقائی مسائل کے حل کے لیے علاقائی سطح پر تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
خبرنگار اعزامی العربیه: نشست چهارجانبه وزرای خارجه کشورهای ترکیه، سعودی، پاکستان و مصر در آنتالیا با هدف بررسی تحولات در منطقه منعقد شد. pic.twitter.com/kuerqwCE70
— العربیه فارسی (@AlArabiya_Fa) April 17, 2026
یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے اور ایران سے متعلق معاملات عالمی اور علاقائی سیاست میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران خلیجی خطے میں کشیدگی کے مختلف واقعات نے سفارتی روابط کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات سے 30 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے، جو خطے میں فوری سفارتی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
چار ملکی فارمیٹ میں یہ تیسرا اجلاس تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم اب مستقل سفارتی مکینزم کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اس سے قبل اسی نوعیت کے اجلاس ریاض اور اسلام آباد میں منعقد ہو چکے ہیں، جہاں اقتصادی تعاون، سکیورٹی اور سیاسی ہم آہنگی پر بات چیت کی گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ تسلسل خطے میں ایک نئے سفارتی بلاک کی تشکیل کی طرف اشارہ کر سکتا ہے، جو مغربی طاقتوں کے اثر سے جزوی طور پر آزاد حکمت عملی اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترکی، سعودی عرب، پاکستان اور مصر چاروں ہی ممالک جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ ترکی نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ سعودی عرب توانائی مارکیٹ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جہاں 2025 میں عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 12 فیصد فراہم کیا گیا۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں ایک ایٹمی طاقت ہے جبکہ مصر نہر سویز کے باعث عالمی تجارت میں مرکزی کردار رکھتا ہے، جہاں سے تقریباً 10 فیصد عالمی تجارت گزرتی ہے۔
اجلاس میں علاقائی بحرانوں، خاص طور پر غزہ، شام اور یمن کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ عالمی بینک کے مطابق ان تنازعات نے خطے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جہاں صرف شام میں جنگ کے باعث 2011 سے اب تک 400 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہو چکا ہے۔ ان حالات میں چاروں ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں انسداد دہشت گردی، توانائی تعاون اور تجارتی روابط بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ اقتصادی معاہدے، جن کی مالیت 5 ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے، اس تعاون کی مثال ہیں۔ اسی طرح ترکی اور مصر کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں بہتری بھی اس پلیٹ فارم کو مضبوط بنا رہی ہے۔
اجلاس کے بعد فوری طور پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق پس پردہ مذاکرات میں کئی اہم نکات پر اتفاق رائے پایا گیا ہے۔ سفارتی حلقے اسے “خاموش پیش رفت” قرار دے رہے ہیں، جہاں عوامی بیانات کے بجائے عملی تعاون کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چار ملکی اتحاد مستقبل میں علاقائی تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں دیگر جغرافیائی تنازعات میں مصروف ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے مقامی سطح پر فیصلے کرنے کی کوشش خطے میں خودمختار سفارتکاری کو فروغ دے سکتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، توانائی منڈی کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی معیشت کی سست روی کے تناظر میں اس نوعیت کے اجلاسوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ آئندہ مہینوں میں اگر یہ چار ملکی مکینزم فعال رہتا ہے تو یہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک مؤثر سفارتی چینل بن سکتا ہے، جس کا مرکز Antalya Diplomacy Forum 2026 جیسے پلیٹ فارمز ہوں گے۔
UrduLead UrduLead