
پاکستان کے شمالی اور بالائی علاقوں میں حالیہ مغربی ہواؤں کے سسٹم کے باعث بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں موسم کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سسٹم ملک کے بیشتر پہاڑی علاقوں میں برفباری کا باعث بنا، جبکہ میدانی علاقوں میں بارش نے سردی کو مزید شدید کر دیا۔
بلوچستان کے بالائی اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں صورتحال خاص طور پر سنگین ہے۔ چمن، قلعہ عبداللہ، زیارت، کوژک ٹاپ، توبہ اچکزئی، شیلاباغ اور دیگر اضلاع میں شدید برفباری کے باعث نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا۔ اہم رابطہ سڑکیں برف سے ڈھک جانے اور پھسلن کی وجہ سے منقطع ہوگئیں، جس سے زمینی آمدورفت معطل ہو گئی۔
پاک افغان سرحد کے قریب واقع علاقوں میں شاہراہیں برف سے پوشیدہ ہوگئیں، جبکہ سیاحوں اور مقامی افراد کی گاڑیاں متعدد مقامات پر پھنس گئیں۔ سردی کی شدت میں اضافے سے پانی کی پائپ لائنیں منجمد ہوگئیں اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی۔
گلگت بلتستان کے ضلع استور میں برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، جس کے باعث رابطہ سڑکیں اب تک بحال نہیں ہوسکیں۔ علاقے کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں برف کی تہہ کئی فٹ تک پہنچ گئی۔ راما میڈوز، دیوسائی اور دیگر سیاحتی مقامات برف سے ڈھک گئے، جس سے سیاح اور مقامی آبادی محصور ہو کر رہ گئی۔
خیبر پختونخوا کے سوات میں بالائی علاقوں (جیسے کالام، مالم جبہ اور دیگر) میں برفباری سے متعدد رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں تھیں، تاہم انتظامیہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے بحالی کا کام جاری ہے۔ سوات کی کئی سڑکیں فور بائی فور گاڑیوں کے لیے جزوی طور پر کھولی جا چکی ہیں، جبکہ برف ہٹانے اور نمک پاشی کے آپریشنز تیز کر دیے گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور پھسلن کا خطرہ برقرار ہے۔ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز، گرم لباس اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں الرٹ پر ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کام جاری ہیں۔شدید سردی کی یہ لہر ملک کے بالائی علاقوں میں معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز میں بھی موسم شدید سرد رہے گا۔
UrduLead UrduLead