منگل , جنوری 27 2026

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری کر دی ہیں، جن میں مہنگائی میں کمی، قابلِ انتظام کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور معاشی ترقی میں تیزی کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ اس ہفتے جاری ہونے والی یہ رپورٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی حالیہ گائیڈنس سے بڑی حد تک مطابقت رکھتی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ماہرین پاکستان کی بعد از وبا معاشی بحالی پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔

ایس اینڈ پی کی پیشگوئیوں کا مرکزی نکتہ مہنگائی کی مستحکم رفتار ہے۔ ادارے کے مطابق 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی شرح 5.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو 2027 میں معمولی اضافے کے ساتھ 5.6 فیصد تک جا سکتی ہے۔ یہ اندازے اسٹیٹ بینک کے آئندہ دو برسوں کے لیے مقرر کردہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر ہیں۔ رپورٹ میں شامل ایک ماہرِ معاشیات کے مطابق “یہ ہم آہنگی اس بات کی عکاس ہے کہ مہنگائی کے دباؤ اب قابو میں ہیں”، جس کی وجہ سخت مانیٹری پالیسی اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں کمی کو قرار دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد بھی حالیہ بیانات میں 5 تا 7 فیصد کی حد برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔

بیرونی کھاتوں کے حوالے سے ایس اینڈ پی نے 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.5 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی کی ہے، جو 2027 میں بڑھ کر 1.3 فیصد ہو سکتا ہے۔ یہ اندازے مالی سال 2026 کے لیے اسٹیٹ بینک کی 0 سے 1 فیصد خسارے کی پیشگوئی سے ہم آہنگ ہیں۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک نے 2027 کے لیے واضح ہدف نہیں دیا، تاہم ایس اینڈ پی کے مطابق ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ صنعتی سرگرمیوں کی بحالی سے بڑھنے والی درآمدی طلب کے باوجود بیرونی توازن کو قابو میں رکھ سکتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے سرپلس کی جانب آیا ہے، جس میں خلیجی ممالک سے ترسیلات زر اور تیل کی نسبتاً کم قیمتوں نے اہم کردار ادا کیا۔

شرح نمو کے معاملے میں معمولی فرق کے باوجود مجموعی رجحان مثبت ہے۔ ایس اینڈ پی کے مطابق مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو اسٹیٹ بینک کے 3.75 سے 4.75 فیصد کے تخمینے سے قدرے کم ہے۔ تاہم 2027 میں یہ شرح بڑھ کر 4.4 فیصد تک جا سکتی ہے، جو اسٹیٹ بینک کے موجودہ دائرے میں آتی ہے۔

اس اضافے کی وجہ توانائی، زراعت اور آئی ٹی شعبوں میں سرمایہ کاری، اور آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اصلاحات کو قرار دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی بنیاد ی پیشگوئی بھی زرعی بحالی اور سی پیک فیز ٹو کے منصوبوں پر مبنی ہے، اگرچہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور موسمیاتی خطرات بدستور موجود ہیں۔

مجموعی طور پر یہ اندازے پاکستان کی معیشت میں بتدریج بہتری کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ مہنگائی جو 2023 میں ڈبل ڈیجٹ میں تھی، نمایاں کم ہو چکی ہے، معاشی شرح نمو 2022 کی منفی کارکردگی سے سنبھل چکی ہے، اور زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سیاسی است

About Aftab Ahmed

Check Also

سرکلر ڈیٹ میں 75 ارب روپے کا اضافہ

پاکستان کے بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ مالی سال 26 کی پہلی ششماہی (جولائی-دسمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے