
مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی معیشت نے غیر معمولی حد تک میکرو اکنامک استحکام کا مظاہرہ کیا، جہاں مہنگائی میں کمی، بڑے صنعتی شعبے کی بحالی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور روپے کی نسبتاً مستحکم قدر نے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور پالیسی ساکھ کو مضبوط کیا۔
جولائی سے دسمبر تک کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قیمتوں کا دباؤ قابو میں رہا جبکہ پیداواری سرگرمیوں میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی۔ مالیاتی نظم و ضبط کے نتیجے میں حکومت سرپلس حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر نے بیرونی کھاتوں کو سہارا دیا۔ اصلاحات اور پالیسی تسلسل کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں شامل رہی۔
حکومت نے اس استحکام کو پائیدار بنانے کے لیے اکنامک گورننس ریفارمز پر بھی پیش رفت کی، جن کا مقصد نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کو فروغ دینا ہے۔
زراعت: ملا جلا مگر لچکدار رجحان
مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں زرعی شعبہ 2.9 فیصد بڑھا، جو گزشتہ سال کے 1 فیصد کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ اگرچہ فصلوں کی کارکردگی غیر ہموار رہی، مویشیوں کے شعبے نے مضبوط نمو دکھائی۔
گندم کے علاوہ اہم فصلوں کی پیداوار میں 0.7 فیصد کمی آئی، جس کی بڑی وجہ کپاس کی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی رہی۔ دیگر فصلیں 6.4 فیصد سکڑ گئیں، جس میں سبز چارے کی پیداوار میں نمایاں کمی شامل ہے، حالانکہ کھاد کے استعمال میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔
مویشیوں کا شعبہ نمایاں رہا، جو 6.3 فیصد بڑھا۔ جنگلات اور ماہی گیری میں بھی بالترتیب 2.1 اور 0.9 فیصد اضافہ ہوا۔ زرعی قرضوں کا حجم 11.4 فیصد بڑھ کر 1.41 کھرب روپے تک پہنچ گیا جبکہ زرعی مشینری کی درآمدات میں 21.6 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔
بڑے صنعتی شعبے کی مضبوط واپسی
لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (LSM) جولائی تا نومبر 6 فیصد بڑھا، اور کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ 22 میں سے 16 صنعتی شعبوں نے مثبت نمو دکھائی، جن میں ٹیکسٹائل، ملبوسات، خوراک، مشروبات، پیٹرولیم مصنوعات، برقی آلات اور آٹوموبائل شامل ہیں۔
نومبر میں ایل ایس ایم میں سالانہ بنیاد پر 10.4 فیصد اضافہ ہوا۔ گاڑیوں کی پیداوار میں غیر معمولی بہتری دیکھنے میں آئی: کاریں 56 فیصد، ٹرک اور بسیں تقریباً دگنی، جبکہ جیپس اور پک اپس 37 فیصد بڑھیں۔ سیمنٹ کی ترسیل بھی 9.7 فیصد اضافے کے ساتھ 25.8 ملین ٹن رہی، جس میں مقامی طلب کا اہم کردار رہا۔
مہنگائی میں کمی، مالیاتی کارکردگی بہتر
دسمبر میں مہنگائی کی شرح 5.6 فیصد رہی جبکہ پہلی ششماہی کی اوسط 5.2 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے 7.2 فیصد سے خاصی کم ہے۔ خوراک کی اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں کمی نے مجموعی مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مدد دی، اگرچہ تعلیم، صحت اور رہائش جیسے شعبوں میں دباؤ برقرار رہا۔
حکومت نے جولائی تا نومبر جی ڈی پی کے 0.8 فیصد کے برابر مالی سرپلس حاصل کیا، جبکہ بنیادی سرپلس 2.8 فیصد رہا۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نمایاں بڑھیں، جبکہ شرح سود میں کمی کے باعث سودی ادائیگیوں میں کمی آئی جس سے اخراجات کم ہوئے۔
بیرونی کھاتوں پر دباؤ مگر سہارا برقرار
پہلی ششماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.2 ارب ڈالر خسارے میں چلا گیا، جبکہ گزشتہ سال سرپلس تھا، کیونکہ درآمدات میں اضافہ ہوا۔ برآمدات مجموعی طور پر مستحکم رہیں اور آئی ٹی سروسز کی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا۔
ترسیلات زر ایک بار پھر بڑا سہارا ثابت ہوئیں، جو 10.6 فیصد بڑھ کر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے۔ ان رقوم اور دیگر بیرونی معاونت کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔
مانیٹری نرمی اور اسٹاک مارکیٹ کی تیزی
نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ کاروباری اعتماد کی بحالی کا اشارہ دیتا ہے، جبکہ حکومت نے بینکوں سے اپنے قرضوں میں کمی کی۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، اور کے ایس ای-100 انڈیکس نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گیا۔
سماجی شعبہ اور بیرون ملک روزگار
بیرون ملک روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوا، جبکہ سماجی تحفظ کے پروگرام جاری رہے، اگرچہ کچھ پروگراموں کے اخراجات گزشتہ سال سے کم رہے جو مالیاتی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔
آئندہ کا منظرنامہ
ماہرین کے مطابق اگر مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہتی ہے اور صنعتی سرگرمیاں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو مالی سال 2026 میں معاشی ترقی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم پالیسی ساز بیرونی خطرات، عالمی اجناس کی قیمتوں اور مالیاتی ضروریات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اگر اصلاحات کا تسلسل برقرار رہا اور سیاسی استحکام میسر آیا تو پہلی ششماہی کا یہ استحکام پاکستان کو ایک پائیدار، سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead