
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس آج (پیر، 26 جنوری 2026) طلب کیا گیا ہے، جس میں بنیادی شرح سود (پالیسی ریٹ) کے حوالے سے فیصلہ متوقع ہے۔
اجلاس کے اختتام پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پریس کانفرنس میں میڈیا کو بریفنگ دیں گے۔گزشتہ اجلاس جو 15 دسمبر 2025 کو ہوا تھا، اس میں کمیٹی نے مارکیٹ کو حیران کرتے ہوئے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں شرح سود 11 فیصد سے کم ہو کر 10.50 فیصد پر آ گئی تھی۔ اس فیصلے کی بنیاد اوسط مہنگائی کا 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں رہنا تھا۔
ماہرین معیشت اور تجزیہ کار آج کے اجلاس میں مزید مانیٹری نرمی کی توقع کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس (بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 75 بیسس پوائنٹس تک) کمی ممکن ہے، جس سے شرح سود سنگل ڈیجٹ سطح (یعنی 10 فیصد سے کم) تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ توقعات پاکستان کی معیشت میں بہتری کے واضح اشاریوں پر مبنی ہیں، جن میں کم ہوتی مہنگائی، بیرونی کھاتوں میں بہتر استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ شامل ہے۔
اس کے علاوہ حالیہ گورنمنٹ آف پاکستان مارکیٹ ٹریژری بلز کی نیلامی میں تین اور چھ ماہ کی مدت کے کٹ آف منافع کی شرحیں چار سال بعد پہلی بار سنگل ڈیجٹ سطح پر آ گئی ہیں، جو مانیٹری نرمی کی طرف مضبوط اشارہ ہے۔
کاروباری برادری بھی بنیادی شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ سطح پر لانا صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے، سرمایہ کاری بڑھانے اور مجموعی معاشی نمو کے لیے ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کا پالیسی ریٹ جون 2024 میں 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا۔ تاہم معاشی اشاریوں میں بہتری کے بعد ایم پی سی اب تک مجموعی طور پر 11.50 فیصد پوائنٹس کی کمی کر چکی ہے، اور موجودہ سطح 10.50 فیصد ہے۔ آج کا فیصلہ معیشت کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
UrduLead UrduLead