
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی مقبول ترین شخصیتوں میں سے ایک رانا فواد، جن کے جذبات سے بھرے تاثرات نے ابتدائی سیزنز میں شائقین کے دل جیت لیے تھے، اب ایک بڑے قانونی فتح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
ثالثی عدالت نے لاہور قلندرز کی ملکیت کے تنازع میں فواد رانا کے حق میں فیصلہ سنایا ہے، جس کے تحت ان کے چھوٹے بھائیوں عاطف رانا اور ثمین رانا کو 45 دن کے اندر یا تو فرنچائز کے اکثریتی شیئرز واپس کرنے ہوں گے یا 2 ارب 30 کروڑ روپے ادا کرنے ہوں گے۔
رانا فواد پی ایس ایل کے پہلے چار سیزنز میں لاہور قلندرز کے ڈگ آؤٹ میں اپنے منفرد انداز کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ جب ٹیم جیتتی تو وہ خوشی سے اچھلتے، سجدہ کرتے، اور جب ہارتی تو مایوسی ان کے چہرے پر عیاں ہوتی۔
لاہور قلندرز کی ابتدائی ناکامیوں کے باوجود ان کے یہ تاثرات سوشل میڈیا پر میمز اور ہمدردی کا باعث بنے۔ شائقین انہیں “قلندرز کا دل” کہنے لگے۔لیکن 2020 کے بعد رانا فواد اچانک غائب ہو گئے۔ کچھ نے سمجھا کہ مسلسل شکستوں سے مایوس ہو کر وہ میچز نہیں دیکھ رہے، جبکہ کرونا وبا کے دوران ان کی شدید بیماری کی خبریں بھی آئیں۔ اس کے بعد ٹیم نے تین بار ٹائٹل جیتے، مگر رانا فواد ڈگ آؤٹ میں نظر نہ آئے۔
اب ثالثی عدالت کے جج جسٹس (ر) مقبول باقر نے 19 جنوری 2026 کو فیصلہ سنایا کہ 2018 اور بعد میں کیے گئے شیئرز کی منتقلی غیر قانونی تھی۔ رانا فواد کی کمپنی قطر آئل لبریکنٹس کمپنی (QALCO) کے 51 فیصد شیئرز کوثر رانا ریسورس (KRR) کو غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے تھے۔
عدالت نے KRR (جس کے ذریعے عاطف اور ثمین رانا فرنچائز چلا رہے ہیں) کو حکم دیا ہے کہ یا تو شیئرز واپس کریں یا 2.3 ارب روپے (سود سمیت ممکنہ طور پر 3 ارب تک) ادا کریں۔
تنازع کیسے شروع ہوا؟
2015 میں رانا فواد نے QALCO کے ذریعے 26 ملین ڈالر میں لاہور قلندرز کی فرنچائز خریدی۔ 2016 میں انہوں نے بھائیوں عاطف اور ثمین کو شامل کیا اور پاکستان میں والدہ کے نام پر KRR کمپنی بنائی گئی۔
ابتدائی طور پر QALCO کے پاس اکثریت تھی، مگر 2018 میں 4 فیصد شیئرز کی منتقلی سے صورتحال بدل گئی۔ فواد رانا کا دعویٰ ہے کہ یہ منتقلی ان کی مرضی اور دستخط کے بغیر ہوئی، جبکہ بھائیوں کا کہنا ہے کہ یہ T10 لیگ اور مالی مسائل کی وجہ سے متفقہ تھا۔2020 میں کرونا کی وجہ سے چیک باؤنس ہوا اور فرنچائز فروخت کی بات چلی، جس میں مزید شیئرز منتقل ہوئے۔
فواد رانا کو 2023 میں SECP ریکارڈ سے پتہ چلا کہ ان کا نام شیئر ہولڈرز میں نہیں، اس پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ معاملہ لاہور ہائی کورٹ، سپریم کورٹ سے گزر کر ثالثی عدالت میں پہنچا۔
موجودہ ردعمل
ثمین رانا نے کہا کہ یہ “خاندانی معاملہ” ہے اور فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر شائقین رانا فواد کے حق میں ہیں۔ ایک صارف نے لکھا: “فواد رانا لاہور قلندرز کی جان تھے، عدالت نے انصاف کیا۔”
دوسرے نے کہا: “وہ ارب پتی ہونے کے باوجود بچوں کی طرح جشن مناتے تھے، اب واپس آئیں تو قلندری دوبارہ لوٹ آئے گی۔”یہ فیصلہ PSL فینز کے لیے ایک بڑی خبر ہے، اور امکان ہے کہ رانا فواد جلد ہی ڈگ آؤٹ میں واپس نظر آئیں۔
کیا لاہور قلندرز کی “قلندری” واپس لوٹے گی؟ وقت بتائے گا۔
UrduLead UrduLead