منگل , جنوری 27 2026

عوام سے ریلیف چھین: پیٹرولیم لیوی میں اضافہ

اسلام آباد کی سرد صبح تھی جب 15 جنوری 2026 کو وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) نے ایک پریس ریلیز جاری کی۔ اس میں اعلان کیا گیا کہ 16 جنوری سے اگلے پندرہ دنوں کے لیے پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتیں بالکل ویسی ہی رہیں گی جیسا کہ یکم جنوری سے چل رہی تھیں۔ یعنی موٹر اسپرٹ (پیٹرول) 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر پر قائم۔

کوئی اضافہ نہیں، کوئی کمی نہیں — بس وہی پرانا سہی۔لیکن میڈیا سمیت معتبر ذرائع کو دستیاب پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹی فکیشن نے اصل کہانی کھول دی۔

وفاقی حکومت نے لیوی میں اضافہ کر کے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر ملنے والے ممکنہ ریلیف سے محروم کر دیا۔ پیٹرول پر فی لیٹر 4 روپے 65 پیسے کا ریلیف چھین لیا گیا جبکہ ڈیزل پر بھی لیوی میں 80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 79 روپے 62 پیسے سے بڑھا کر 84 روپے 27 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل پر لیوی 75 روپے 41 پیسے سے بڑھا کر 76 روپے 21 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔

یہ اضافہ اس وقت کیا گیا جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہو رہی تھیں اور برینٹ کروڈ تقریباً 59 ڈالر فی بیرل پر آ گیا تھا۔ عوام کو توقع تھی کہ قیمتیں 4 سے 5 روپے فی لیٹر تک کم ہو سکتی ہیں، لیکن حکومت نے لیوی بڑھا کر یہ امکان ختم کر دیا اور قیمتیں برقرار رکھیں۔

شہر کی گلیوں میں ٹیکسی ڈرائیور احمد خان اپنی پرانی ٹویوٹا کورولا کو پیٹرول پمپ پر لے گیا۔ پچھلے چند دنوں سے وہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر پڑھ رہا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہو رہا ہے، شاید کچھ ریلیف مل جائے۔ اس نے سوچا تھا کہ آج پٹرول بھرواتے وقت کچھ بچت ہو جائے گی، بیوی بچوں کے لیے کچھ میٹھی چیزیں لے آئے گا۔ لیکن جب پمپ اٹینڈنٹ نے بل دیا تو وہی پرانا 253 روپے 17 پیسے۔

احمد خان نے سر ہلایا اور بڑبڑایا، “لیوی بڑھا دی، ریلیف چھین لیا… استحکام کا مطلب یہی ہے کیا؟”دوسری طرف لاہور کے ایک ٹرانسپورٹر ملک عارف اپنے ٹرک کو ڈیزل بھروا رہا تھا۔ اسے یاد آیا کہ ذرائع نے بتایا تھا کہ ڈیزل میں کم از کم 2 روپے 70 پیسے کی کمی ممکن ہے۔

وہ سوچ رہا تھا کہ شاید اس ماہ کرایہ تھوڑا کم رکھ سکے، یا کم از کم منافع میں کچھ اضافہ ہو جائے۔ لیکن نوٹی فکیشن دیکھ کر اس کا چہرہ لٹک گیا۔ “حکومت نے لیوی میں 80 پیسے بڑھا دیے، قیمتیں وہی رکھ دیں… ہمارا بوجھ کب کم ہو گا؟” اس نے پوچھا۔

اس اعلان سے پہلے لوگوں میں ایک امید جاگی تھی۔ عالمی سطح پر تیل سستا ہو رہا تھا، روپے کی قدر میں بھی کچھ بہتری آئی تھی۔ بہت سے لوگ سوچ رہے تھے کہ حکومت شاید اس بار عوام کو کچھ ریلیف دے دے گی، جیسا کہ یکم جنوری کو پیٹرول میں 10 روپے 28 پیسے اور ڈیزل میں 8 روپے 57 پیسے کمی کی گئی تھی۔ لیکن اب لیوی کا اضافہ کر کے یہ امید بھی دم توڑ گئی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے معاہدوں اور مالیاتی استحکام کے لیے ضروری ہے، لیکن عوام کے لیے یہ صرف ایک اور بوجھ ہے۔ایک چھوٹے سے دکان دار نے کہا، “بھائی، قیمت نہ بڑھے یہ بھی بڑی بات ہے، لیکن جب لیوی بڑھا کر ریلیف چھین لیا جائے تو استحکام کیسا؟ مہنگائی نے تو پہلے ہی کمر توڑ رکھی ہے۔

“رات کو جب احمد خان گھر پہنچا تو اس نے بیوی سے کہا، “آج پٹرول وہی پرانا ہے… لیکن لیوی بڑھ گئی، ریلیف ختم۔” بیوی نے مسکرا کر جواب دیا، “تو پھر آج رات دال چاول ہی کھا لیں گے، کوئی بات نہیں۔ استحکام بھی تو زندگی کا حصہ ہے… شاید اگلے پندرہ دنوں میں کچھ بدلے۔”اور یوں پاکستان میں ایک اور پندرہ دن گزرنے والے ہیں — پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں جوں کی توں، لیوی بڑھ گئی، عوام کی امیدیں کم ہوئیں، اور زندگی کا پہیہ بھی جوں کا توں چلتا رہے گا۔ شاید اگلے اعلان تک کوئی نئی امید جاگ اٹھے… یا پھر بس یہی ‘استحکام’ ہی کافی سمجھ لیا جائے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے