منگل , جنوری 27 2026

PTI کا نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد کا مطالبہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے واضح کیا کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے جسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے اور پارٹی کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے۔

اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی پر زور دیا۔

بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت گڈ گورننس کے میدان میں اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان (نیپ) پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی سیاسی جماعت نہیں ہوتی۔ یہ الزام کہ پی ٹی آئی کے پی میں تعاون نہیں کر رہی، سراسر غلط اور حقیقت کے منافی ہے۔

پریس کانفرنس میں پارٹی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے اور ایک ایسی قومی پالیسی چاہتی ہے جو آئندہ 5 سے 10 سال تک چلے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے امن کے ساتھ ہیں، لوگوں کو بے گھر ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ پارٹی کا پیغام یکجہتی کا ہے اور پی ٹی آئی پر تہمتیں لگانا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے اور ایک دوسرے سے سیکھنا چاہیے۔

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے حق میں ہیں۔ وفاقی حکومت کو صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنے چاہییں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مزید سنجیدہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہم قائد اعظم کا پاکستان چاہتے ہیں جہاں آئین و قانون کی بالادستی ہو۔

اسد قیصر نے قبائلی علاقوں کو فنڈز نہ دینے پر تنقید کی اور کہا کہ وہاں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ کے پی کے نوجوانوں کو روزگار اور امید دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اداروں اور عوام کے درمیان ہم آہنگی کی بات کی اور کہا کہ پی ٹی آئی پرامن جماعت ہے مگر انہیں جلسوں کی اجازت نہیں دی جاتی۔پریس کانفرنس کے موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی کی ذات یا سیاست پاکستان سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہونے کا عزم دہرایا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے