
لاہور کی یونیورسٹی آف لاہور کی ڈی فارمیسی کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ کی خودکشی کی کوشش کے معاملے کی تفتیش آہستہ آہستہ سلجھنے لگی ہے۔
پولیس نے ابتدائی تحقیقات میں انکشاف کیا ہے کہ واقعہ طالبہ کے اہل خانہ کی جانب سے پسند کی شادی میں رکاوٹ ڈالنے پر پیش آیا۔پولیس ذرائع کے مطابق، طالبہ نارنگ منڈی (ضلع شیخوپورہ) کی رہائشی ہے اور وہ اپنے آبائی علاقے کے ایک نوجوان احمد بلال کو پسند کرتی تھی، جس سے شادی کی خواہشمند تھی۔ تاہم اہل خانہ نے شادی کی اجازت نہ دی اور اسے تعلیم جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔
واقعے سے قبل طالبہ نے اسی نوجوان سے تقریباً 27 منٹ تک فون پر بات کی تھی، جس کے بعد اس نے کال ریکارڈ ڈیلیٹ کر دیا اور یونیورسٹی کی عمارت کی دوسری یا تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔
پولیس نے اس نوجوان کو شامل تفتیش کر لیا ہے اور اس کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔ طالبہ کے موبائل فون کی کال ریکارڈ حاصل کر لی گئی ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
نجی یونیورسٹی کی طالبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے معاملے کی گتھی آہستہ آہستہ سلجھنے لگی ہے۔
— صحرانورد (@Aadiiroy2) January 7, 2026
پولیس نے واقعے سے قبل طالبہ سے 27 منٹ تک فون پر بات کرنے والے نوجوان کو شاملِ تفتیش کر لیا ہے جس کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔
پولیس تفتیش کے مطابق واقعہ طالبہ کے ورثا کی جانب سے… pic.twitter.com/MIESO15UCb
طالبہ کی حالت بہتر ہونے پر اس کا بیان بھی قلمبند کیا جائے گا۔ادھر لاہور جنرل ہسپتال میں زیر علاج طالبہ فاطمہ کو ہوش آ گیا ہے اور ڈاکٹرز نے اسے وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا ہے۔ طالبہ نے اپنے اہل خانہ سے بات چیت بھی کی ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق طالبہ کی دماغی حالت، آکسیجن لیول اور ہیمو ڈائنامکس میں بہتری آئی ہے، تاہم مجموعی حالت اب بھی تشویشناک ہے اور وہ خود سانس لے رہی ہیں جبکہ آکسیجن سپورٹ جاری ہے۔طالبہ کے علاج کے لیے قائم کردہ میڈیکل بورڈ میں توسیع کر دی گئی ہے اور ارکان کی تعداد 4 سے بڑھا کر 7 کر دی گئی ہے۔ چیئرمین میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم کی سربراہی میں ماہرین مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ واقعہ 5 جنوری کو پیش آیا تھا اور یہ یونیورسٹی آف لاہور میں چند ہفتوں کے اندر خودکشی کی کوشش کا دوسرا افسوسناک واقعہ ہے۔ گزشتہ ماہ ایک طالب علم نے بھی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر جان دے دی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں یونیورسٹی انتظامیہ کی کوئی غفلت ثابت ہوئی تو کارروائی کی جائے گی۔
UrduLead UrduLead