منگل , جنوری 27 2026

دسمبر 2025 میں مہنگائی کی شرح کم

وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 میں مہنگائی کی سالانہ شرح 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 5.6 فیصد پر آگئی، جو نومبر 2025 کی 6.1 فیصد سے کم ہے۔ شہری علاقوں میں مہنگائی 5.8 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 5.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ تاہم نان فوڈ نان انرجی انفلیشن 0.4 فیصد بڑھ کر 6.9 فیصد ہوگئی۔

ماہانہ بنیاد پر سستی ہونے والی اشیاء:
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹماٹر 45 فیصد، پیاز 33 فیصد، سبزیاں 21 فیصد سے زائد، آلو 18 فیصد، چینی 7 فیصد، چنے اور گڑ 3 فیصد تک سستے ہوئے۔ اس کے علاوہ زندہ مرغی کی قیمت میں 2.79 فیصد، موٹر فیول 0.66 فیصد کمی آئی۔ بیسن، دال چنا، دال ماش، دال مسور، دال مونگ اور چاول بھی سستی ہونے والی اشیاء میں شامل رہے۔

ماہانہ بنیاد پر مہنگی ہونے والی اشیاء:
دوسری جانب پھل 6.78 فیصد، گندم 3.48 فیصد، ڈرائی فروٹ 3.29 فیصد، انڈے 3.27 فیصد، کوکنگ آئل 2.84 فیصد، خشک دودھ 2 فیصد مہنگا ہوا۔ گندم کا آٹا 2 فیصد، گھی 1.92 فیصد، مچھلی 2 فیصد تک مہنگی ہوئی۔ اس کے علاوہ ایندھن 16.37 فیصد، کوئلہ 2.76 فیصد، گارمنٹس 2.44 فیصد مہنگے ہوئے جبکہ میرج ہال چارجز میں 1.96 فیصد اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں 1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سالانہ بنیاد پر اہم اشیاء:
سالانہ بنیاد پر خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں 3.24 فیصد اضافہ ہوا۔ جلد خراب ہونے والی اشیاء 20 فیصد سے زائد سستی جبکہ دیگر کھانے پینے کی اشیاء 7.49 فیصد مہنگی ہوئیں۔ الکوحل اور تمباکو کی قیمتوں میں 3.91 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

کپڑے اور جوتے 6.22 فیصد، پانی، بجلی، گیس اور فیول 6.86 فیصد مہنگا ہوا۔ تعلیم کی فیس 9.90 فیصد، صحت کی سہولیات 7.74 فیصد، ٹرانسپورٹ کرائے 5 فیصد جبکہ ہوٹل اور ریسٹورنٹ چارجز 5.57 فیصد بڑھ گئے۔

ماہرین کے مطابق خوراک کی اشیاء خاص طور پر سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو کچھ ریلیف ملا ہے، تاہم بنیادی انفلیشن میں اضافے سے مستقبل میں چیلنجز برقرار رہ سکتے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے