
پاکستان بھر میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی امرود کی میٹھی اور رسیلی فصل بازاروں میں پہنچ گئی ہے۔
پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے باغات سے تازہ امرود کی بڑی مقدار میں کٹائی ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف مقامی مارکیٹیں رنگین ہو گئی ہیں بلکہ کسانوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹیں بکھیر گئی ہیں۔
زرعی ماہرین کے مطابق رواں سال موسم کی مناسب حالات کی بدولت امرود کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر رہی ہے۔ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا امرود پیدا کرنے والا ملک ہے، جہاں تقریباً 55 ہزار ہیکٹر رقبے پر یہ پھل کاشت کیا جاتا ہے اور سالانہ پیداوار 5 لاکھ ٹن سے زائد ہوتی ہے۔
پنجاب میں فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ اور شیخوپورہ جبکہ سندھ میں حیدرآباد، لاڑکانہ اور دادو کے علاقے امرود کی پیداوار کے لیے مشہور ہیں۔
امرود کی مقبول اقسام میں سرخ گوشت والا ‘سرخا’، سفید گوشت والا ‘سفیدا’، گول امرود اور تایوانی اقسام شامل ہیں جو اپنے میٹھے ذائقے اور غذائی اجزا کی وجہ سے پسند کی جاتی ہیں۔
یہ پھل وٹامن سی کا بھرپور ذریعہ ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور سردیوں میں نزلہ زکام سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔بازاروں میں فی کلو امرود کی قیمت 150 سے 300 روپے تک ہے جو معیار پر منحصر ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ تازہ امرود کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور برآمدات کے لیے بھی مواقع بڑھ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور یورپ امرود کی درآمد کرنے والے بڑے ممالک ہیں۔
کسانوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ امرود کی پروسیسنگ یونٹس قائم کیے جائیں تاکہ جوس، جام اور دیگر مصنوعات بنا کر برآمدات بڑھائی جا سکیں۔
زرعی محکمہ پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ کسانوں کو جدید کاشتکاری تکنیکوں کی تربیت دی جا رہی ہے جس سے آئندہ سیزن میں پیداوار مزید بڑھنے کا امکان ہے۔سردیوں کے اس مزیدار پھل سے لطف اندوز ہونے کا بہترین وقت ہے، شہری تازہ امرود خرید کر اپنی صحت کا خیال رکھ سکتے ہیں جبکہ کسانوں کے لیے یہ فصل آمدنی کا اچھا ذریعہ بن رہی ہے۔
UrduLead UrduLead