
مغربی ہواؤں کا طاقتور سلسلہ 6 سے 10 دسمبر کے دوران بلوچستان میں داخل ہوگا، جس کے بعد صوبے میں بارشوں کا پہلا بھرپور اور طویل مرحلہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سلسلہ وقفے وقفے سے پورے مہینے جاری رہ سکتا ہے، جس کے دوران جنوبی، وسطی اور شمالی بلوچستان میں نمایاں بارشیں اور بالائی اضلاع میں برف باری کا امکان ہے۔ صوبہ گزشتہ کئی ماہ سے خشک سالی اور پانی کی شدید کمی کا شکار ہے، جس کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح تاریخی حد تک نیچے جا چکی ہے۔ زرعی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بارش سے خشک سالی کے اثرات کم ہوں گے اور موسمِ سرما کی کاشت میں بہتری آئے گی۔
بلوچستان کے قحط زدہ اضلاع—ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، سبی، لسبیلہ، آواران، کیچ، گوادر، پنجگور، خضدار، قلعہ سیف اللہ، چاغی، نوشکی، واشک اور مستونگ—میں بارشیں معمول سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ کئی مقامات پر گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش جبکہ بلوچستان کے بالائی اضلاع میں برف باری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ صوبے میں گزشتہ برس بھی دسمبر اور جنوری میں معمول سے کم بارش ریکارڈ ہوئی تھی، جس کی وجہ سے بارہ کے ذخائر میں 20 سے 30 فیصد کمی آئی، جبکہ کوئٹہ بیسن میں پانی کی سطح مزید 1.5 میٹر گر گئی تھی، جیسا کہ واٹر ریسورس ڈویژن کی 2024 رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق اس سال شمال مغربی ہواؤں کا نظام معمول سے زیادہ فعال ہے اور عرب سمندر سے نمی کا بہاؤ بھی مسلسل بلوچستان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان دونوں عوامل کے ملاپ سے بارشوں کا سلسلہ طویل، مسلسل اور کسی حد تک شدید ہو سکتا ہے، جو خشک سالی کے شکار علاقوں کے لیے مثبت اثرات لائے گا۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ سردیوں کی بارشیں اس سال 15 سے 20 فیصد زائد ہونے کا امکان ہے، جو زرعی شعبے، گندم کی فصل اور چھوٹے ڈیموں کی سطح میں بہتری کا باعث بن سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کے اس سلسلے کا سب سے بڑا فائدہ زیر زمین پانی کے ذخائر کو پہنچے گا، کیونکہ بلوچستان کے کئی اضلاع میں پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے۔ واپڈا کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے 70 فیصد اضلاع میں ٹیوب ویل گہرے کرنے کی شرح گزشتہ پانچ سال میں دوگنی ہوئی ہے، جو خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔ نئے بارش سسٹم سے نہ صرف ڈیموں میں پانی بڑھے گا بلکہ خشک ندی نالوں میں بھی بہاؤ بحال ہوگا۔
بلوچستان میں بارشوں کا یہ سلسلہ صوبے کے موسمی اور زرعی منظرنامے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ حکام نے نشیبی علاقوں میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے جبکہ بالائی اضلاع میں برف باری کے باعث سفر محدود رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق اگر یہ نظام مضبوطی سے اثر انداز ہوا تو دسمبر کے بعد جنوری میں بھی ایک اور سسٹم بلوچستان کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے صوبے میں پانی کی دستیابی اور موسمِ سرما کے حالات بہتر ہونے کی امید ہے۔
UrduLead UrduLead