ترسیلات زر اور صنعت میں بہتری

پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملکی معیشت نے جاری مالی سال میں 3.7 فیصد شرح نمو حاصل کی، جو گزشتہ سال کے 3.18 فیصد کے مقابلے میں بہتر رہی، تاہم حکومت کے مقرر کردہ 4.2 فیصد ہدف سے کم رہی۔ سروے میں زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں مجموعی بہتری، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ اور مالیاتی خسارے میں کمی کو نمایاں کامیابیاں قرار دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال، 2025 کے سیلاب، علاقائی کشیدگی اور عالمی معاشی دباؤ سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا کیا، لیکن اس کے باوجود معیشت استحکام سے ترقی کی جانب گامزن رہی۔
اقتصادی سروے کے مطابق ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 126.9 کھرب روپے تک پہنچ گیا جبکہ فی کس آمدن 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں یہ بلند ترین شرح نمو ہے، کیونکہ مالی سال 2023 میں شرح نمو منفی 0.2 فیصد، 2024 میں 2.6 فیصد اور 2025 میں 3.2 فیصد رہی تھی۔

زرعی شعبے کی کارکردگی گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر رہی اور اس نے 2.89 فیصد ترقی کی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ شرح 1.53 فیصد تھی۔ حکومت کے مطابق سیلابی نقصانات کے باوجود فصلوں اور لائیو اسٹاک کے شعبے نے مثبت کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
صنعتی شعبے نے 3.51 فیصد نمو حاصل کی۔ بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) میں 6.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔ سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد، کھاد کی فروخت میں 17 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 5 فیصد، گاڑیوں میں 31 فیصد اور موبائل فونز کی پیداوار میں 9 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
خدمات کے شعبے نے 4.09 فیصد شرح نمو حاصل کی جو قومی معیشت کا تقریباً 58 فیصد حصہ ہے۔ اطلاعات و مواصلات کے شعبے میں 7.52 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، جسے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
مالیاتی نظم و ضبط کے حوالے سے سروے میں بتایا گیا کہ جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک آ گیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 2.6 فیصد تھا۔ اسی طرح بنیادی سرپلس 3.2 فیصد تک پہنچ گیا، جسے تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا۔
مہنگائی کے محاذ پر اوسط صارف قیمت اشاریہ (CPI) جولائی تا اپریل کے دوران 6.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ سال کے ابتدائی حصے میں مہنگائی نسبتاً قابو میں رہی، تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اپریل میں افراط زر بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گیا۔
بیرونی شعبے میں کارکنوں کی ترسیلات زر معیشت کے لیے بڑا سہارا ثابت ہوئیں۔ جولائی تا مارچ کے دوران ترسیلات زر 8.2 فیصد اضافے کے ساتھ 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ مالی سال کے اختتام تک یہ حجم مزید بڑھ جائے گا۔
برآمدات کے شعبے میں مجموعی طور پر دباؤ برقرار رہا، خصوصاً چاول اور چینی کی برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔ تاہم ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان اور آئی ٹی خدمات کی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر اپریل 2026 تک 20.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جن میں سے 15.1 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود تھے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جون کے اختتام تک ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے بھی مالی سال کے دوران مثبت کارکردگی دکھائی۔ کے ایس ای-100 انڈیکس میں جولائی تا مارچ 18.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 8.5 فیصد بڑھ کر 16,534 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ بہتر کارپوریٹ منافع، شرح سود میں کمی اور آئی ایم ایف پروگرام کے کامیاب جائزے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔
قرضوں کے حوالے سے سروے میں بتایا گیا کہ مارچ 2026 تک مجموعی سرکاری قرضہ 83.3 کھرب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب کم ہو کر 68.5 فیصد رہ گیا، جو 2023 میں 75 فیصد تھا۔ حکومت نے اسے مالیاتی استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
ٹیکس وصولیوں میں بھی بہتری دیکھی گئی اور مجموعی محصولات 11.3 فیصد اضافے کے ساتھ 10,166 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ ایف بی آر کی وصولیوں میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ صوبائی ٹیکس آمدن میں 25.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان کی معیشت نے متعدد داخلی اور خارجی چیلنجز کے باوجود استحکام برقرار رکھا، تاہم شرح نمو، برآمدات اور غربت میں کمی کے اہداف کے حصول کے لیے آئندہ مالی سال میں مزید اصلاحات اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔
UrduLead UrduLead