بدھ , جون 10 2026

قومی اقتصادی سروے کل جاری ہوگا

بیشتر معاشی اہداف حاصل نہ ہوسکے

حکومت رواں مالی سال 2025-26 کا قومی اقتصادی سروے کل جاری کرے گی، جس میں ملکی معیشت کی مجموعی کارکردگی، ترقیاتی اہداف اور اہم معاشی اشاریوں کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔

ابتدائی تخمینوں کے مطابق حکومت اس مالی سال بھی بیشتر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، تاہم ترسیلات زر اور خدمات کے شعبے میں بہتر کارکردگی ریکارڈ کی گئی۔

دستاویزات کے مطابق مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح نمو 4.2 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF)، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے بھی پاکستان کی معاشی نمو مقررہ ہدف سے کم رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔

رواں مالی سال اوسط مہنگائی کا ہدف 7.5 فیصد مقرر کیا گیا تھا، جبکہ 11 ماہ کے دوران اوسط افراطِ زر 7 فیصد رہی۔ تاہم مئی میں مہنگائی کی سالانہ شرح بڑھ کر 11.66 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے قیمتوں کے دباؤ میں اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق فی کس آمدن کا سالانہ ہدف 5 لاکھ 60 ہزار 803 روپے رکھا گیا تھا، لیکن یہ 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ تاہم ڈالر کے حساب سے فی کس آمدن میں تقریباً 150 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 1,901 ڈالر تک پہنچ گئی۔

زرعی اور صنعتی شعبے بھی مقررہ اہداف حاصل نہ کر سکے۔ زرعی شعبے کی شرح نمو 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 2.89 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ صنعتی شعبے کی ترقی 4.3 فیصد ہدف کے برعکس 3.51 فیصد تک محدود رہنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب خدمات کے شعبے نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ اس شعبے کی شرح نمو 4 فیصد ہدف کے مقابلے میں 4.09 فیصد رہنے کا امکان ہے، جس نے مجموعی معاشی سرگرمیوں کو سہارا فراہم کیا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہیں۔ حکام کو توقع ہے کہ جون کے اختتام تک ترسیلات زر 41 ارب ڈالر کی سطح عبور کر سکتی ہیں۔

برآمدات کے شعبے میں بھی اہداف مکمل طور پر حاصل نہ ہو سکے۔ مالی سال کے لیے اشیا کی برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا، تاہم 11 ماہ کے دوران برآمدات تقریباً 28 ارب ڈالر رہیں۔ اس کے برعکس درآمدات 65.2 ارب ڈالر کے سالانہ ہدف کے مقابلے میں پہلے ہی 63 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ مہنگائی میں نسبتاً کمی، ترسیلات زر میں اضافہ اور خدمات کے شعبے کی بہتر کارکردگی مثبت اشارے ہیں، تاہم زرعی و صنعتی شعبوں کی کمزور نمو اور برآمدی اہداف کا حصول نہ ہونا معیشت کے لیے چیلنج برقرار رکھتا ہے۔ اقتصادی سروے میں ان تمام شعبوں کی تفصیلی کارکردگی اور آئندہ مالی سال کے معاشی امکانات بھی پیش کیے جائیں گے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ملک بھر میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ

کئی شہروں میں پارہ 49 ڈگری تک پہنچ گیا محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے