بدھ , مئی 13 2026

نان ایسنشل ادویات مہنگی: ڈریپ سروے

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے 2024 میں نان ایسنشل ادویات کی قیمتوں پر سرکاری کنٹرول ختم کیے جانے کے بعد ملک میں 55 فیصد ادویات مہنگی ہو گئیں، جبکہ 42 فیصد ادویات کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سروے میں 771 ادویات اور برانڈز کا جائزہ لیا گیا، جو پاکستان میں فروخت ہونے والی 500 بڑی نان ایسنشل ادویات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ڈریپ کے مطابق 424 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 329 ادویات سستی ہوئیں۔ صرف 18 ادویات ایسی تھیں جن کی قیمتیں برقرار رہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق قیمتوں میں اضافے والی 424 ادویات میں سے 31 ادویات کی قیمتیں 100 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں، 62 ادویات کی قیمتوں میں 50 سے 100 فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ 331 ادویات 50 فیصد تک مہنگی ہوئیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سردی، کھانسی اور نزلے میں استعمال ہونے والی کولڈریکس گولیوں کا 100 گولیوں والا پیک، جو پہلے 27 روپے 60 پیسے میں دستیاب تھا، اب 475 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جس میں 1600 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح کیلشیم اور وٹامن ڈی کی گولیوں کی قیمت 330 روپے سے بڑھ کر تقریباً 1327 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ الرجی کی دوا “ایول انجیکشن” کی قیمت 432 روپے سے بڑھ کر 1500 روپے ہو گئی۔ برفین کریم، لیبراکس، پولی فیکس آئی اوئنٹمنٹ، لیکسوبرون سیرپ اور اسٹیمیٹل سمیت کئی ادویات کی قیمتوں میں بھی 180 سے 240 فیصد تک اضافہ رپورٹ کیا گیا۔

ڈریپ حکام کا کہنا تھا کہ سروے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کے بعد مارکیٹ میں ادویات کی دستیابی اور قیمتوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ حکام کے مطابق سروے کے دوران تمام 771 ادویات مارکیٹ میں دستیاب تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی ریگولیشن کے بعد ادویات کی قلت میں کمی آئی ہے۔

ڈریپ نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 659 دوا ساز کمپنیاں اور 394 درآمد کنندگان کام کر رہے ہیں جبکہ ملکی ادویات کی سالانہ مارکیٹ ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نگران حکومت کے دور میں ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق موجودہ قانون کے تحت ڈریپ صرف جان بچانے والی ضروری ادویات کی قیمتوں کو ریگولیٹ کر سکتی ہے جبکہ نان ایسنشل ادویات کی قیمتوں میں اضافے یا کمی میں وزارت صحت کا کوئی کردار نہیں۔

وزیر صحت نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کبھی کسی فارماسیوٹیکل کمپنی سے “چائے کی پیالی تک نہیں پی”، اور حکومت عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے شفاف پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مالی خسارہ 9 ماہ میں 856 ارب روپے تک پہنچ گیا

مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں پاکستان کی مالی صورتحال شدید دباؤ کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے