منگل , اپریل 28 2026

ریونیو بیسڈ لوڈشیڈنگ غیر قانونی قرار

پاور ڈویژن حکام وضاحت نہ دے سکے

National Electric Power Regulatory Authority نے مارچ کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 27 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی، جس کے دوران توانائی شعبے سے متعلق اہم نکات سامنے آئے۔

چیئرمین Waseem Mukhtar کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں حکام نے بتایا کہ مارچ کے لیے ریفرنس فیول پرائس 7.99 روپے فی یونٹ مقرر تھی، جبکہ اصل لاگت 8.26 روپے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث قیمت میں اضافے کی درخواست دی گئی ہے۔

سماعت کے دوران قطر کے ساتھ مائع قدرتی گیس (RLNG) کے معاہدوں پر بھی بات ہوئی، جہاں پاور ڈویژن حکام نے وضاحت دی کہ یہ معاہدے “ٹیک اینڈ پے” بنیادوں پر ہیں، یعنی گیس خریدنا لازم ہے چاہے استعمال ہو یا نہ ہو۔ ایک صارف کے سوال پر حکام نے بتایا کہ مقامی گیس کا استعمال جاری ہے اور تقریباً 150 ایم ایم ایف سی ڈی گیس سرپلس بھی رہی۔

حکام نے بنیادی ٹیرف میں اضافے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ جنوری 2027 سے قبل متوقع نہیں، اور فی الحال اضافے کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا جا رہا۔

سماعت میں ریونیو بیسڈ لوڈشیڈنگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر نیپرا اتھارٹی نے واضح طور پر کہا کہ نقصان یا ریکوری کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ غیر قانونی ہے۔ ممبر نیپرا آمنہ احمد نے بھی اس مؤقف کی تائید کی۔

تاہم اس موقع پر ایک صحافی نے سوال اٹھایا کہ جب ریونیو بیسڈ لوڈشیڈنگ غیر قانونی ہے تو پاور ڈویژن اس پالیسی کو جاری رکھنے کی بات کیوں کر رہا ہے۔ اس سوال پر نہ نیپرا حکام اور نہ ہی پاور ڈویژن کوئی واضح جواب دے سکے، جس پر خاموشی اختیار کی گئی۔

مزید بتایا گیا کہ درآمدی آر ایل این جی سے بجلی کی پیداواری لاگت تقریباً 40 روپے فی یونٹ ہے، جبکہ فرنس آئل سے یہی لاگت 60 روپے فی یونٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ حکام کے مطابق ایل این جی کے سپاٹ کارگو کی خریداری سے فیول کاسٹ میں نمایاں اضافہ متوقع نہیں۔

پاور سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں معمولی رد و بدل معمول کا حصہ ہے، تاہم لوڈشیڈنگ اور گردشی قرضے جیسے مسائل بدستور چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

نیپرا کی جانب سے حتمی فیصلہ تفصیلی جائزے کے بعد جاری کیا جائے گا، جبکہ صارفین کو بجلی کے نرخوں میں ممکنہ اضافے کے اثرات کا انتظار ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

IMF سے 1.2 ارب ڈالرز قسط اگلے ماہ متوقع

حکومت کمرشل فنانسنگ اور پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری میں مصروف وفاقی وزیرِ خزانہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے