
قومی اسمبلی کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود پاکستانیوں کے بڑے پیمانے پر انخلا کی ضرورت نہیں، تاہم مختلف ممالک سے واپسی کیلئے انتظامات جاری ہیں۔
وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کو یقین دہانی کرائی کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود پاکستانی شہریوں کے بڑے پیمانے پر انخلا کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ حکام نے بتایا کہ مختلف ممالک میں موجود پاکستانیوں کی واپسی کیلئے انتظامات جاری ہیں اور صورتحال مسلسل مانیٹر کی جا رہی ہے۔
کمیٹی کا اجلاس پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید آغا رفیع اللہ کی صدارت میں ہوا، جس میں وزارت خارجہ کے کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ نے مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی تعداد اور انہیں وطن واپس لانے کیلئے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ارکان نے خصوصاً پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن سمیت دیگر ایئرلائنز کے کرایوں میں غیر معمولی اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
حکام نے بتایا کہ بعض ممالک میں پاکستانی شہریوں کو ایندھن کی قلت اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ایئرپورٹس تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد رجسٹرڈ ہے، تاہم انخلا کے منتظر افراد کی تعداد محدود اور قابلِ انتظام ہے۔
قطر میں پاکستانی سفارت خانے کے پاس دس ہزار سے زائد رجسٹریشنز موصول ہوئیں، جن میں سے 215 افراد کو فوری مدد کی ضرورت تھی، جبکہ متحدہ عرب امارات میں ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد رجسٹریشنز ہوئیں۔ حکام کے مطابق یو اے ای میں 4543 پاکستانی مسافر ٹرانزٹ میں تھے، جن میں سے 4400 افراد 40 کمرشل پروازوں کے ذریعے واپس جا چکے ہیں۔
آذربائیجان میں پاکستانیوں کی تعداد کم بتائی گئی، جہاں 113 افراد کو سہولتیں فراہم کی گئیں اور 58 وطن واپس آ چکے ہیں۔ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی رکن مہرین رزاق بھٹو نے سوال اٹھایا کہ اگر صورتحال معمول کے مطابق ہے تو انخلا کی بات کیوں ہو رہی ہے اور حکومت کو واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
ابوظہبی میں پاکستانی مشن کے ایک عہدیدار نے کمیٹی کو بتایا کہ صورتحال قابو میں ہے اور صرف ایئرپورٹس پر پھنسے افراد کو مدد فراہم کی جا رہی ہے، بڑے پیمانے پر انخلا کی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ اجلاس کے دوران مہرین بھٹو نے تجویز دی کہ پنجاب حکومت کی جانب سے خریدا گیا طیارہ بھی پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے استعمال کیا جائے، جس پر کمیٹی چیئرمین نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اس سے تو چند افراد ہی واپس لائے جا سکیں گے۔
سعودی عرب کے بارے میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ تقریباً پچیس لاکھ پاکستانی وہاں مقیم ہیں اور حالات کشیدہ مگر مستحکم ہیں۔ سعودی عرب کی فضائی اور زمینی سرحدیں کھلی ہیں اور پی آئی اے سمیت نجی ایئرلائنز کی پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ریاض سے 163 پاکستانیوں کو سہولت فراہم کی گئی جن میں سے 91 واپس آ چکے ہیں جبکہ باقی کو رہائش اور دیگر سہولتیں دی جا رہی ہیں۔
قطر میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ پاکستانی مقیم ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق ممکنہ انخلا کیلئے 10188 افراد نے رجسٹریشن کرائی، جن میں سے 215 افراد پھنسے ہوئے تھے اور 97 واپس جا چکے ہیں جبکہ باقی کی روانگی متوقع ہے۔ قطر کی فضائی حدود جزوی طور پر بحال ہے اور محدود کمرشل پروازیں چل رہی ہیں جبکہ زمینی سرحد کھلی ہے۔
عراق میں سیکیورٹی صورتحال کشیدہ قرار دی گئی جہاں تقریباً چالیس ہزار پاکستانی موجود ہیں۔ بغداد کے قریب امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات کے بعد 1277 پاکستانیوں کی واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، جن میں 450 زائرین شامل ہیں۔ عراق کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث سعودی عرب اور ترکی کے راستے زمینی سفر کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
کویت میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں اور حالات قابو میں ہیں، تاہم فضائی حدود بند ہونے کے باعث 158 پاکستانیوں کو سعودی عرب کے راستے واپس بھیجا گیا۔ عمان میں تقریباً تین لاکھ بیاسی ہزار پاکستانی رہتے ہیں اور وہاں پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں جبکہ مسقط سے درجنوں افراد کی واپسی میں مدد دی گئی۔ بحرین میں ایک لاکھ چونتیس ہزار پاکستانیوں میں سے 1940 نے رجسٹریشن کرائی اور امریکی بحری اڈے کے قریب رہنے والے 81 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
لبنان میں صورتحال تیزی سے خراب ہونے کی اطلاع دی گئی جہاں اسرائیلی حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ اردن میں حالات مستحکم ہیں اور کوئی پاکستانی پھنسنے کی اطلاع نہیں۔ وزارت خارجہ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فضائی سفر میں رکاوٹیں، محدود پروازیں، زمینی راستوں پر انحصار اور بڑھتے کرایے بڑے چیلنج بنے ہوئے ہیں، اس لیے حکومت مسلسل ہنگامی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری اقدامات کیے جا سکیں۔
UrduLead UrduLead