منگل , مارچ 10 2026

5 جی اسپیکٹرم نیلامی سے 144 ارب حاصل

پی ٹی اے کے مطابق فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے پہلے مرحلے میں 507 ملین ڈالر کی بولی لگی جبکہ مجموعی طور پر 144.5 ارب روپے مالیت کا اسپیکٹرم فروخت ہوا۔

چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمٰن نے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیلامی کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد ملک میں اسپیکٹرم کی دستیابی میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق نیلامی کا پہلا مرحلہ بینڈ ایلوکیشن سے متعلق تھا جس میں مختلف فریکوئنسی بینڈز میں لاٹس کی فروخت مکمل کی گئی۔

چیئرمین پی ٹی اے نے بریفنگ میں بتایا کہ 700 میگا ہرٹز بینڈ میں تین لاٹس دستیاب تھے جن میں سے دو فروخت ہو گئے، جبکہ 2300 میگا ہرٹز بینڈ میں موجود پانچوں لاٹس خریداروں کو مل گئے۔ اسی طرح 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں موجود تمام 19 لاٹس فروخت ہو گئے، جس سے آپریٹرز کو اضافی صلاحیت حاصل ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ 3500 میگا ہرٹز بینڈ، جو فائیو جی سروس کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، میں 28 لاٹس دستیاب تھے جن میں سے 22 لاٹس فروخت ہو گئے، جس کے تحت مجموعی طور پر 220 میگا ہرٹز اسپیکٹرم خرید لیا گیا۔ پی ٹی اے کے مطابق ایک کمپنی نے 190 میگا ہرٹز، دوسری کمپنی نے 180 میگا ہرٹز جبکہ تیسری کمپنی نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔

چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ اسپیکٹرم کی نیلامی کے پہلے مرحلے میں قیمت 507 ملین ڈالر پر لاک ہوئی جبکہ مجموعی نیلامی 144.5 ارب روپے میں مکمل ہوئی۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر دستیاب 597.2 میگا ہرٹز میں سے 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فروخت ہو چکا ہے، جو ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں سرمایہ کاری کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔

حکام کے مطابق فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز کے آغاز کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ وزارت آئی ٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں موبائل براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 125 ملین سے زیادہ ہو چکی ہے، جبکہ ڈیٹا استعمال میں ہر سال نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث اضافی اسپیکٹرم کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق 3500 میگا ہرٹز بینڈ کو عالمی سطح پر فائیو جی کے لیے بنیادی بینڈ سمجھا جاتا ہے، اور اس کی فروخت سے آئندہ چند برسوں میں پاکستان میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، اسمارٹ سٹی منصوبوں اور صنعتی آٹومیشن کے امکانات بڑھیں گے۔ پی ٹی اے حکام نے کہا کہ نیلامی کے بعد اگلے مرحلے میں آپریٹرز کو نیٹ ورک اپ گریڈ کرنے اور فائیو جی سروسز شروع کرنے کیلئے لائسنس شرائط کے مطابق ٹائم لائن دی جائے گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ فائیو جی کی فراہمی سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوگا، جبکہ ٹیلی کام سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے، جس سے آنے والے برسوں میں پاکستان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ایران جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے رابطے کے بعد کہا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے