بدھ , مارچ 4 2026

ایران کے میزائل حملوں سے خلیج میں کشیدگی

ایران نے خلیجی ممالک پر 450 میزائل اور 1,140 ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا، آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی سے عالمی توانائی منڈی میں بے چینی بڑھ گئی۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک پر مجموعی طور پر 450 میزائلوں اور 1,140 ڈرونز سے حملے کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔

Islamic Revolutionary Guard Corps نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین کے علاقے شیخ عیسیٰ میں واقع امریکی فضائی اڈے پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملہ کیا گیا۔ پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق 20 ڈرون اور 3 میزائل داغے گئے جنہوں نے ایئر بیس کی مرکزی کمانڈ اور ہیڈکوارٹر کی عمارت کو نشانہ بنایا اور ایندھن کے ٹینکوں میں آگ لگا دی۔ امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی۔

ایران کے ایک سینئر مشیر نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی کمانڈر انچیف کے مشیر ابراہیم جباری نے کہا کہ اگر کوئی بحری جہاز اس گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو ایرانی بحریہ اور پاسداران انقلاب اسے تباہ کر دیں گے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے کی بندش عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جا سکتی ہے اور سپلائی چین کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ گزشتہ برس بھی خطے میں کشیدگی کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تھا۔

ادھر Ali Larijani، جو ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل ہیں، نے کہا ہے کہ ایران نے طویل جنگ کی تیاری کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی چھ ہزار سالہ تہذیب کا دفاع کرے گا، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا اسرائیل کی منتخب کردہ جنگ میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے صورتحال پر قریبی نظر رکھنے کا بیان جاری کیا گیا ہے، تاہم خطے میں امریکی افواج کی پوزیشن اور ممکنہ ردعمل کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

عالمی مبصرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی توانائی منڈی، شپنگ انشورنس اور بحری تجارت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اوپیک رکن ممالک اور بڑی طاقتیں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ خطہ کسی وسیع تر جنگ کی لپیٹ میں نہ آ جائے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

تیل قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ

مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل مہنگا، پاکستان میں 15 مارچ سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے