بدھ , مارچ 4 2026

آئی ایم ایف کا سیکیورٹی خدشات پر دورہ مختصر

آئی ایم ایف نے سیکیورٹی صورتحال کے باعث پاکستان کا دورہ قبل ازوقت ختم کر کے 1.2 ارب ڈالر قسط کے مذاکرات آن لائن منتقل کر دیے۔

International Monetary Fund نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان کا دورہ مختصر کرتے ہوئے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط سے متعلق مذاکرات ترکیہ سے آن لائن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آئی ایم ایف مشن نے منگل کی صبح وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی اور چند گھنٹوں بعد اسلام آباد سے روانہ ہوگیا۔ فنڈ کے پاکستان میں نمائندے نے تصدیق کی کہ توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر بات چیت اب ورچوئل طریقے سے ہوگی۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب United States Department of State نے پاکستان کے لیے لیول تھری ٹریول ایڈوائزری جاری کی۔ امریکی شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور بڑے اجتماعات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔ بعض علاقوں کو لیول فور قرار دے کر سفر کے لیے ممنوع قرار دیا گیا۔ امریکی سفارت خانے نے لاہور اور کراچی میں قونصل خانوں کے باہر مظاہروں اور اسلام آباد و پشاور میں احتجاجی کالز کے بعد عملے کی نقل و حرکت محدود کر دی۔

مشن چیف آئیوا پیٹرووا نے ابتدائی اجلاس میں پائیدار اصلاحات اور محصولات میں اضافے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ معاشی بہتری حوصلہ افزا ہے مگر اسے برقرار رکھنے کے لیے سخت مالی نظم و ضبط ضروری ہے۔ انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سماجی اخراجات بڑھانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 3 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت جائزہ مکمل کرانے کا خواہاں ہے تاکہ 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری ہو سکے۔ گزشتہ سال اس پروگرام نے ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ State Bank of Pakistan کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر حالیہ ہفتوں میں 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، جو گزشتہ سال کی کم ترین سطح سے بہتر ہیں مگر اب بھی درآمدی ضروریات کے مقابلے میں محدود سمجھے جاتے ہیں۔

Pakistan Bureau of Statistics کے اعدادوشمار کے مطابق مہنگائی کی شرح مئی 2023 کی تقریباً 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر حالیہ مہینوں میں نمایاں حد تک نیچے آئی ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک نے افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے پالیسی ریٹ بلند سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے۔ مالیاتی خسارہ کم کرنا اور پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کرنا پروگرام کی بنیادی شرائط میں شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق مشن کی اچانک روانگی کے باعث خودمختار ویلتھ فنڈ میں مجوزہ ترامیم، ای پروکیورمنٹ نظام کی توسیع، احتسابی اداروں سے معلومات کے تبادلے اور سرکاری و عسکری ملکیتی کمپنیوں کو دی جانے والی مراعات کے خاتمے سے متعلق اجلاس منسوخ ہو گئے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی پر طے شدہ اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا۔

محصولات میں اضافہ فنڈ کے ساتھ مذاکرات کا اہم نکتہ رہا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ٹیکس وصولیوں میں سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ ہوا، تاہم طے شدہ اہداف کے حصول میں اب بھی دباؤ موجود ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے مسلسل ٹیکس بیس وسیع کرنے اور رعایات کم کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق تیسرے جائزے کی تکمیل نہ صرف آئی ایم ایف کی قسط بلکہ دیگر کثیرالجہتی اداروں سے مالی معاونت کے اجرا کے لیے بھی اہم ہے۔ World Bank اور Asian Development Bank عموماً اپنی فنانسنگ کو آئی ایم ایف پروگرام سے منسلک رکھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آن لائن مذاکرات سے عمل جاری رہے گا مگر کسی تاخیر کی صورت میں روپے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم پائیدار بحالی کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کا حصول بدستور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

این آئی ٹی ایل میں ایم ڈی تقرری پر تنازع

نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ لمیٹڈ میں میرٹ فہرست کے سرفہرست امیدوار کو نظرانداز کر کے کم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے