
ملک میں تاحال کوئی بڑی ویکسین مقامی سطح پر تیار نہیں کی جا رہی، جس کے باعث پاکستان کو ویکسین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین صحت اور متعلقہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقامی ویکسین سازی کا آغاز نہ کیا گیا تو سال 2031 تک ویکسین کی سالانہ درآمدی لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بڑھتی آبادی، نئے امراض کے خطرات اور حفاظتی ٹیکہ جات کے دائرہ کار میں وسعت کے باعث ویکسین کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان بیشتر ویکسین بیرون ملک سے منگواتا ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے اور سپلائی چین میں رکاوٹ کی صورت میں عوامی صحت کے پروگرام متاثر ہونے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری نہ صرف درآمدی اخراجات میں کمی لا سکتی ہے بلکہ ہنگامی حالات میں بروقت دستیابی بھی یقینی بنا سکتی ہے۔ ان کے مطابق ویکسین سازی کے شعبے میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور بین الاقوامی شراکت داری وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس شعبے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آئندہ چند برسوں میں ویکسین کی درآمد پر بڑھتا ہوا خرچ قومی معیشت پر ایک بڑا بوجھ بن سکتا ہے۔
ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ویکسین مینوفیکچرنگ کے لیے طویل المدتی پالیسی بنائی جائے تاکہ صحت عامہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی دباؤ کو بھی کم کیا جا سکے۔
UrduLead UrduLead