
بسنت کے تہوار کی آمد نے شہر کو رنگوں اور جوش سے بھر دیا ہے۔
کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق چار روز میں پتنگوں، گڈوں اور ڈور (پنے) کی خرید و فروخت نے ریکارڈ توڑ دیا ہے، جہاں ایک ارب 22 کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار ہو چکا ہے۔
چوتھے روز بھی مارکیٹس میں پتنگوں اور پنوں کی طلب عروج پر رہی۔ ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق اب تک 10 لاکھ سے زائد گڈے پتنگیں فروخت ہو چکی ہیں، جبکہ چوتھے روز ہی 20 ہزار سے زائد پنے (ڈوریں) فروخت ہوئے۔
قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک تاوا گڈا 400 روپے، ڈیڑھ تاوا گڈا 700 روپے اور پونا تاوا 300 روپے میں دستیاب ہے۔ جبکہ 2 پیس کا پنا 12 سے 15 ہزار روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ چوتھے روز پتنگوں کے ریٹ میں اضافے کے باوجود دستیابی برقرار رہی اور خریداروں کا رش مسلسل جاری ہے۔
یاد رہے کہ حکومت پنجاب نے سخت حفاظتی ضابطوں کے ساتھ 6 سے 8 فروری کو بسنت منانے کی اجازت دی ہے۔ صرف کاٹن کی ڈور اور مخصوص سائز کی پتنگیں جائز ہیں، جبکہ کیمیکل یا دھاتی ڈور پر مکمل پابندی ہے۔ موچی گیٹ، باغبانپورہ اور دیگر مارکیٹس میں رش نے دکانداروں کو ریکارڈ سیلز دیے ہیں۔
بسنت کے شوقین اب چھتوں اور کھلی جگہوں پر پتنگ بازی کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ انتظامیہ حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لیے متحرک ہے۔ یہ تہوار لاہور کی ثقافتی رونق کو بحال کرنے کا باعث
UrduLead UrduLead