جمعہ , فروری 6 2026

بجلی 42 پیسہ فی یونٹ اضافے کی تجویز

ملک بھر کے بجلی صارفین کو اپریل سے جون 2026 کے دوران بجلی کے بلوں میں تقریباً 42 پیسہ فی یونٹ اضافی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔ یہ ممکنہ اضافہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ادا کیے جانے والے کیپیسٹی چارجز سمیت دیگر اخراجات کی مد میں کیا جا رہا ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سابق واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی درخواست پر 17 فروری کو عوامی سماعت طلب کر لی ہے۔ ڈسکوز نے مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر 2025) کے اخراجات کی بنیاد پر صارفین سے 10.832 ارب روپے وصول کرنے کی اجازت مانگی ہے۔ یہ رقم کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (QTA) کی مد میں تین ماہ کے بلوں میں وصول کی جائے گی۔

اس وقت صارفین پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2025) کے 6.06 ارب روپے کے بوجھ کے باعث 33 پیسہ فی یونٹ مثبت QTA ادا کر رہے ہیں، جو دسمبر سے نافذ ہے اور رواں ماہ کے اختتام پر ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد نیا QTA نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔

ڈسکوز کی جانب سے مانگی گئی ایڈجسٹمنٹ میں کیپیسٹی چارجز، ٹرانسمیشن چارجز، مارکیٹ آپریٹر فیس، صنعتی و زرعی صارفین کے لیے حکومت کے تین سالہ انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے اثرات، سسٹم لاسز کا فیول لاگت پر اثر اور متغیر آپریشنز اینڈ مینٹیننس (O&M) اخراجات شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق دوسری سہ ماہی میں صرف کیپیسٹی چارجز کا اضافی اثر 24.25 ارب روپے رہا۔ تاہم دیگر مدات میں منفی ایڈجسٹمنٹس — جن میں متغیر O&M میں 1.655 ارب روپے کمی، سروس چارجز میں 3 ارب روپے، انکریمنٹل پیکیج کے اثرات میں 7.5 ارب روپے اور سسٹم لاسز پر فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ کا 1.2 ارب روپے اثر شامل ہے — نے مجموعی بوجھ کم کر کے 10.83 ارب روپے تک محدود کر دیا۔

گیارہ ڈسکوز میں سے تین کمپنیوں نے منفی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست دی ہے ان میں حیدرآباد الیکٹرک: 3.5 ارب روپے کمی، پشاور الیکٹرک: 5.1 ارب روپے کمی اورکوئٹہ الیکٹرک: 4.1 ارب روپے کمی شامل ہے

دوسری جانب جن کمپنیوں نے زیادہ ریکوری مانگی ہے ان میں ملتان الیکٹرک: 5.6 ارب روپے، گوجرانوالہ: 4.8 ارب روپے، اسلام آباد: 4.1 ارب روپے، لاہور: 3.7 ارب روپے، سکھر: 2.9 ارب روپے اور فیصل آباد: 1.9 ارب روپے شامل ہے

نئی قائم ہونے والی ٹریبل الیکٹرک اور ہزارہ الیکٹرک نے بالترتیب 303 ملین اور 140 ملین روپے اضافی ریکوری کی درخواست دی ہے۔

منظوری کی صورت میں یہ QTA کے-الیکٹرک صارفین پر بھی لاگو ہوگا۔ تاہم حکومت کے اعلان کردہ انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت خصوصی ٹیرف کے اہل صارفین پر QTA، ڈیٹ سروس سرچارج (DSS) اور منفی فیول لاگت ایڈجسٹمنٹس (FCA) لاگو نہیں ہوں گے۔

نیپرا کی سماعت کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا، جس کے اثرات براہ راست ملک بھر کے بجلی صارفین کے بلوں پر پڑیں گے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

USC ملازمین کے لیے خصوصی ریلیف پیکج منظور

وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کے متاثرہ ملازمین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے