
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے متعلق معاملات پر پاکستان کے ساتھ بیک چینل رابطے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس سلسلے میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو اہم سفارتی ذمے داری سونپ دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ٹورنامنٹ کے شیڈول، وینیوز اور بعض انتظامی معاملات پر پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث آئی سی سی نے براہِ راست سرکاری خطوط و کتابت کے بجائے پس پردہ بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ معاملات کو میڈیا کی نظروں سے دور رہتے ہوئے خوش اسلوبی سے طے کیا جا سکے۔
آئی سی سی حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے اور اس کے تحفظات کو سننا اور اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ اسی تناظر میں عمران خواجہ کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ پی سی بی حکام سے رابطہ کر کے اختلافی نکات پر پیش رفت ممکن بنائیں اور ایسی راہ نکالی جائے جو تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت میں سیکیورٹی انتظامات، میچز کے شیڈول، ممکنہ وینیوز اور ٹیموں کی سفری لاجسٹکس جیسے امور زیرِ غور آ سکتے ہیں۔ بیک چینل سفارت کاری کا مقصد کسی بھی ممکنہ تنازع کو باضابطہ سطح پر سامنے آنے سے پہلے حل کرنا ہے تاکہ ٹورنامنٹ کی تیاریوں پر منفی اثرات نہ پڑیں۔
پی سی بی کی جانب سے تاحال باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم کرکٹ حلقوں میں یہ پیش رفت مثبت اشارہ قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بیک چینل رابطے کامیاب رہے تو نہ صرف موجودہ تنازعات میں کمی آئے گی بلکہ آئی سی سی اور پاکستان کے تعلقات میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead