
پاکستان کے معاشی ٹیم کے پاس متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو ایک سال کے لیے رول اوور کرانے کے لیے اب صرف 12 دن باقی رہ گئے ہیں۔
یہ ڈپازٹس اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع ہیں اور اگر مقررہ مدت میں رول اوور نہ ہوا تو پاکستان کو فروری 2026 کے اندر ہی یہ بڑی رقم واپس کرنی پڑے گی، جو زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
اصل شیڈول کے مطابق، ایک ارب ڈالر 17 جنوری اور دوسرا ایک ارب ڈالر 23 جنوری 2026 کو واجب الادا تھا۔ یو اے ای نے ان دونوں ادائیگیوں پر ایک ماہ کی عارضی توسیع دے دی تھی، جس کے نتیجے میں اب ڈیڈ لائن 16 فروری 2026 تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت خزانہ نے یو اے ای سے ایک سالہ (یا اس سے زیادہ) رول اوور کی نئی رسمی درخواست کر دی ہے۔
واضح رہے کہ صدرمملکت آصف زرداری نے بھی 26سے 29جنوری تک متحدہ عرب امارات کادورہ کیا تھا جس میں انہوں نے اماراتی صدرسے بھی ملاقات کی تھی ۔
وزیر خارجہ و سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس معاملے کے لیے دبئی کا دورہ بھی کیا تھا، لیکن اب تک حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا اور ڈیڈ لائن برقرار ہے۔
فنانس ڈویژن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ “یو اے ای سے درخواست کی جا چکی ہے اور بات چیت جاری ہے۔ ہم پرامید ہیں کہ دونوں فریقین جلد ہی مثبت نتیجے پر پہنچیں گے۔”
واضح رہے کہ یو اے ای کے مجموعی 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں سے یہ 2 ارب ڈالر کی رقم اہم ہے، جبکہ تیسرا ایک ارب ڈالر جولائی 2026 میں میچور ہونے والا ہے۔ پاکستان اس مالی سال میں کل 12.5 ارب ڈالر کے مختلف قرضوں اور ڈپازٹس کے رول اوور پر انحصار کر رہا ہے، جن میں سعودی عرب، چین اور دیگر دوست ممالک شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رول اوور حاصل نہ ہوا تو زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام اور معاشی استحکام کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔ تاہم، حکومتی ذرائع پرامید ہیں کہ یو اے ای ایک بار پھر پاکستان کا ساتھ دے گا۔
UrduLead UrduLead