بدھ , فروری 4 2026

بسنت کا جوش و خروش عروج پر، صرف ایک دن باقی

لاہور میں بسنت کی آمد میں اب صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے اور شہر رنگ برنگی پتنگوں، پھولوں، لائٹس اور تہواری سجاوٹ سے جگمگا اٹھا ہے۔

قدیم عمارتوں، بازاروں اور شاہراہوں پر پیلے جھنڈے، بینرز اور آرائشی روشنیاں بسنت کے استقبال میں چمک رہی ہیں، جس سے لاہور کی فضا مکمل طور پر تہواری ہو گئی ہے۔اندرون شہر کی مارکیٹوں میں پتنگ اور ڈور کی خریداری زور و شور سے جاری ہے۔

تاجروں کے مطابق اب تک تقریباً 44 کروڑ روپے مالیت کی پتنگیں اور ڈور فروخت ہو چکی ہیں، جبکہ نت نئی ڈیزائن کی پتنگیں شہریوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ بسنت کے موقع پر خصوصی کھانوں کے مینو بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب حکومت نے بسنت کے پیش نظر صوبے بھر میں 6 اور 7 فروری کو دو روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جمعہ (6 فروری) اور ہفتہ (7 فروری) کو تمام سرکاری اور نجی ادارے بند رہیں گے۔

اس سے قبل 5 فروری کو یومِ کشمیر کے موقع پر بھی عام تعطیل ہو گی، جس کے نتیجے میں پنجاب میں مسلسل چار دن (جمعرات سے اتوار تک) تعطیلات ہوں گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی طویل ویک اینڈ کی خوشی کا اظہار کیا ہے اور 7 فروری کو لبرٹی چوک میں جشن بسنت منانے کا اعلان کیا ہے۔

تہوار کو محفوظ اور منظم بنانے کے لیے حکومت پنجاب نے سخت اقدامات کیے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ شہر بھر میں چھتوں کی انسپکشن کر رہی ہے اور خطرناک عمارتوں کو نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں۔

کیمیکل ڈور پر مکمل پابندی عائد ہے جبکہ ڈرون کیمروں اور نگرانی کے دیگر ذرائع سے فیسٹیول کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ لاہور ایئرپورٹ کے قریبی 15 سے زائد علاقوں میں پتنگ بازی پر پابندی لگا دی گئی ہے، خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہو گی۔

پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر ایمرجنسی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے فوری نمٹا جا سکے۔

انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بسنت خوشی، ہم آہنگی اور زندگی سے محبت کا تہوار ہے، اسے ذمہ داری اور احتیاط سے منائیں تاکہ یہ رنگ سب کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر سکیں اور کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔

یہ بسنت 18 سال بعد باقاعدہ بحال ہو رہا ہے، جسے حکومت پنجاب پنجابی ثقافت کی بحالی کا اہم موقع قرار دے رہی ہے۔ شہریوں میں جوش و خروش عروج پر ہے اور لاہور تیاریوں میں مصروف ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس رول اوور کا مسئلہ

پاکستان کے معاشی ٹیم کے پاس متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے 2 ارب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے