بدھ , فروری 4 2026

امریکا-ایران مذاکرات عمان میں ہونے کا امکان

ایران اور امریکا کے درمیان جمعہ کو متوقع جوہری مذاکرات کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی درخواست پر مذاکرات ترکیہ سے منتقل کرنے پر آمادگی کا اظہار کردیا۔

امریکا اور ایران کے مذاکرات جمعہ کو عمان میں ہونےکا امکان ہے،غیرملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق یہ فیصلہ ایران کی درخواست پرکیاگیا، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نےمذاکرات کامقام ترکیہ سے عمان منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی پیش رفت کا خواہشمند نظر آتا ہے،تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا واقعی کوئی نتیجہ سامنے آتا ہے یا نہیں۔

ایران نے مذاکرات کا مقام استنبول سے عمان منتقل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے تاکہ بات چیت صرف جوہری پروگرام تک محدود رہے اور علاقائی یا دیگر سیاسی مسائل اس پر اثر انداز نہ ہوں۔

علاقائی ذرائع اور امریکی میڈیا کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات دو طرفہ ہوں اور علاقائی ممالک کی براہ راست شرکت نہ ہو، جبکہ امریکا کی جانب سے وسیع تر شرکت کی تجویز دی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے اور امریکا کسی غیر یقینی صورتحال کو اہمیت نہیں دے رہا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مقام اور وقت کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔

امریکا کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور دونوں فریق ایک موزوں اور قابل قبول جگہ منتخب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترکیہ، عمان اور خطے کے دیگر ممالک نے میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کی سفارتی کوششوں نے اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔

یہ بات چیت بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے ممکن ہوئی اور شدید تناؤ کے باوجود پاکستان اور ترکیہ نے ایران کو امریکا سے بات چیت پر راضی کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا کی جانب سے خصوصی نمائندہ اسٹیو ویٹکوف جبکہ ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کی نمائندگی کریں گے۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق تنازع کو سفارتی طور پر حل کرنا ہے تاکہ خطہ نئی جنگ یا بڑے تصادم سے بچ سکے۔

ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ استنبول (یا ممکنہ طور پر عمان) میں ہونے والے مذاکرات کی ترجیح ممکنہ تنازع سے بچاؤ اور کشیدگی کم کرنا ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کی اہم طاقتوں کے وزرائے خارجہ کو بھی دعوت دی گئی ہے تاکہ بات چیت کو وسیع تر سفارتی حمایت مل سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں استحکام کے لیے اہم ہیں، خاص طور پر امریکا کی جانب سے فوجی تیاریوں اور ایران کے جوہری پروگرام کے تناظر میں۔ تاہم، مقام اور فارمیٹ پر اختلافات اب بھی حل طلب ہیں اور حتمی صورتحال اگلے چند دنوں میں واضح ہو گی

About Aftab Ahmed

Check Also

2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس رول اوور کا مسئلہ

پاکستان کے معاشی ٹیم کے پاس متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے 2 ارب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے