کوئی الزام یا ثبوت شامل نہیں

امریکی کانگریس کی ایک نگرانی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں شامل مبینہ ای میلز کے مندرجات سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گئے ہیں، جن میں 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کامیابی کے بعد عمران خان کے بارے میں سخت رائے ظاہر کی گئی تھی۔
دستاویزات کے مطابق یہ ای میلز 31 جولائی 2018 کی بتائی جاتی ہیں اور ان میں مرحوم امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹائن نے عمران خان کو “امن کے لیے خطرہ” اور “devout Islamist” جیسے الفاظ سے تعبیر کیا۔ تاہم ان پیغامات میں عمران خان کے خلاف کسی قسم کا قانونی الزام، ثبوت یا براہِ راست تعلق ظاہر نہیں کیا گیا، بلکہ یہ ایپسٹائن کی ذاتی سیاسی رائے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
ان ای میلز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر 1990 کی دہائی کی ایک پرانی تصویر بھی گردش کر رہی ہے، جس میں سابق کرکٹر عمران خان ایک تقریب کے دوران برطانوی سوشلائٹ گھسلین میکسویل کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ میکسویل بعد ازاں ایپسٹائن کیس میں مجرم قرار پائیں اور اس وقت قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ تصویر کے حوالے سے تاحال ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جو کسی غیر قانونی سرگرمی سے تعلق ظاہر کرے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے کو مختلف حلقے اپنے اپنے مؤقف کے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔ عمران خان کے حامی اسے بین الاقوامی طاقتور حلقوں کی ناراضی کا اشارہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ان کی عالمی سطح پر متنازع شبیہ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ عمران خان 2023 سے پاکستان میں مختلف مقدمات میں قید ہیں، جن میں توشہ خانہ اور سائفر جیسے کیسز شامل ہیں۔ وہ ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ حکومتی مؤقف اس سے مختلف ہے۔
تاحال ان ای میلز کے مندرجات یا پس منظر پر امریکی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
UrduLead UrduLead