
وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ذیلی ادارے طویل عرصے سے عارضی بنیادوں پر چل رہے ہیں، جس سے شدید انتظامی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر تعلیم بے بس نظر آ رہے ہیں، جبکہ بیوروکریٹس وزارت کے کلیدی عہدوں کے ساتھ ساتھ ذیلی اداروں کے اضافی چارجز بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپیشل ایجوکیشن (ڈی جی ایس ای) اور پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیئرا) میں مستقل سربراہان کی تقرری نہ ہونے سے پالیسی سازی، فیصلہ سازی اور روزمرہ انتظامی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
کچھ معاملات میں مبینہ مالی بدعنوانیوں کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔
اہم اداروں میں عارضی انتظامات
ایچ ای سی اس وقت مستقل چیئرمین کے بغیر ہے۔ سابق چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کے بعد نئے چیئرمین کے تقرری کا سمری وزیراعظم کو بھیجا گیا تھا مگر مسترد ہو گیا، جس کے بعد کوئی نیا عمل شروع نہیں کیا گیا۔
فی الحال ایچ ای سی چیئرمین کا اضافی چارج وفاقی سیکریٹری تعلیم ندیم محبوب کے پاس ہے۔ پاکستان کی پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیوں کی ایسوسی ایشن (اے پی ایس یو پی) نے بھی وزیراعظم کو خط لکھ کر مستقل چیئرمین کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی طرح خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کے ذمہ دار اہم ادارہ ڈی جی ایس ای بھی مستقل ڈائریکٹر جنرل کے بغیر ہے، جس کا اضافی چارج جوائنٹ سیکریٹری تعلیم آصف اقبال آصف کے پاس ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے 422 سے زائد سرکاری تعلیمی اداروں کے انتظامی امور سنبھالنے والا ایف ڈی ای بھی طویل عرصے سے مستقل ڈی جی کے بغیر چل رہا ہے، جس کا اضافی چارج سینیئر جوائنٹ سیکریٹری ایڈمن سید جنید اخلاق کے پاس ہے۔
فیصلہ سازی میں تاخیر کا بحران
اسی طرح پیئرا بھی مستقل سربراہ کے بغیر کام کر رہا ہے، جس کا اضافی چارج آئی بی سی سی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح کے پاس ہے۔
ذرائع کے مطابق ان اداروں میں مالی اور انتظامی فیصلے اضافی چارج سنبھالنے والے افسران کر رہے ہیں، جبکہ بہت سے اہم فیصلے غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر ہو گئے ہیں۔ نتیجتاً ترقیاتی منصوبے سست پڑ گئے، فائلز کی حرکت کم ہو گئی اور شکایات کے ازالے کا نظام کمزور پڑ گیا ہے۔
UrduLead UrduLead