
پاکستان نے تیسرا اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں آسٹریلیا کو 111 رنز سے کراری شکست دی اور تین میچوں کی سیریز میں 3-0 سے تاریخی وائٹ واش مکمل کر لیا۔
یہ فتح نہ صرف میزبان ٹیم کے لیے شاندار کامیابی تھی بلکہ آئندہ بین الاقوامی چیلنجز، بالخصوص ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے بہترین اعتماد کا باعث بھی بنی۔
ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے اتری پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 207 رنز کا مضبوط ہدف بنایا۔ اننگز کی بنیاد اوپنر سائم ایوب نے رکھی جنہوں نے 37 گیندوں پر 56 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں 6 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔
بابر اعظم نے ناقابل شکست 50 رنز (36 گیندوں پر 3 چوکے اور 1 چھکا) کے ساتھ اننگز کو سنبھالا اور استحکام دیا۔مڈل آرڈر میں شعلہ باریاں دیکھنے کو ملیں۔
شاداب خان نے صرف 19 گیندوں پر 46 رنز بنائے جس میں 2 چوکے اور 5 شاندار چھکے شامل تھے۔ خواجہ نفیع نے 12 گیندوں پر 21 رنز اور فہیم اشرف نے آخری اوورز میں 4 گیندوں پر 10 ناٹ آؤٹ رنز بنا کر اسکور کو 200 سے آگے لے گئے۔
فخر زمان (10) اور کپتان سلمان آغا (5) جلد آؤٹ ہو گئے تھے مگر ٹیم نے رفتار برقرار رکھی۔

آسٹریلیا کا 208 رنز کا ہدف کا پیچھا شروع ہوتے ہی ڈوب گیا۔ وہ صرف 16.5 اوورز میں 96 رنز پر آل آؤٹ ہو گئے۔ محمد نواز نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی منتخب ہوئے۔
شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ نے ابتدائی اوورز میں تیز رفتار سے حملہ کیا جبکہ ابرار احمد اور شاداب خان نے مڈل اوورز میں کنٹرول قائم رکھا۔ آسٹریلوی بلے بازوں میں کوئی بھی 30 رنز تک نہ پہنچ سکا۔یہ سیریز پہلے ہی طے ہو چکی تھی۔
پہلے میچ میں پاکستان نے 22 رنز سے اور دوسرے میں 90 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔ تیسرے میچ میں مکمل یک طرفہ مقابلہ دیکھنے کو ملا جس نے پاکستان کی گھریلو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بحالی کو اجاگر کیا۔
یہ آسٹریلیا کی حالیہ برسوں میں سب سے بڑی ٹی ٹوئنٹی شکست تھی اور سب کنٹیننٹل حالات میں اسپن اور پیس کے خلاف ان کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔
پاکستان کی مکمل ٹیم پرفارمنس – طاقتور بیٹنگ، جارحانہ انداز اور بہترین بولنگ – لاہور کے شائقین کے لیے خوشی کا باعث بنی۔ سیریز کے اس کلین سویپ کے بعد اب ٹیم کا فوکس آنے والے بڑے چیلنجز پر مرکوز ہو گیا ہے۔
UrduLead UrduLead