
عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں مسلسل تیزی کا سلسلہ جاری ہے، جہاں جمعرات کو اسپاٹ گولڈ کی قیمت بڑھتے بڑھتے تقریباً 5600 ڈالر فی ٹرائے اونس کی ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ گئی۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، سونے کی قیمت 5545 سے 5568 ڈالر فی اونس کے درمیان ریکارڈ بلندیوں پر پہنچی ہے، جو گزشتہ چند دنوں میں 2 سے 4 فیصد تک اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تیزی کی بنیادی وجوہات جغرافیائی کشیدگیاں، معاشی غیر یقینی صورتحال، امریکی ڈالر کی کمزوری، مرکزی بینکوں کی خریداری اور سرمایہ کاروں کی محفوظ اثاثوں کی طرف رجحان ہیں۔
سونے کو عالمی بحرانوں کے دوران “سیف ہیون” اثاثہ سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اسی دوران چاندی کی قیمت بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے اور 116 سے 118 ڈالر فی اونس کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 270 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
عالمی قیمت کا سادہ حساب کتاب
سونے کی عالمی قیمت عام طور پر ٹرائے اونس میں بیان کی جاتی ہے، جس میں تقریباً 31.1035 گرام سونا ہوتا ہے۔ اگر اسپاٹ گولڈ کی قیمت 5600 ڈالر فی اونس ہو تو ایک گرام سونے کی قیمت تقریباً 180 ڈالر بنتی ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمت تولہ کے حساب سے دیکھی جاتی ہے، جہاں ایک تولہ میں تقریباً 11.664 گرام سونا ہوتا ہے۔ اس حساب سے عالمی مارکیٹ میں ایک تولہ سونے کی قیمت تقریباً 2100 ڈالر کے قریب بنتی ہے۔
پاکستان میں مقامی قیمت کا منظرنامہ
عالمی قیمتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ڈالر کی شرح تبادلہ (جو آج تقریباً 280 سے 282 روپے کے درمیان ہے)، مقامی ٹیکس، درآمدی چارجز، جیولرز کا منافع اور دیگر اخراجات شامل کر کے حتمی مارکیٹ ریٹ طے کیا جاتا ہے۔
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق پاکستان میں 24 قیراط سونے کی قیمت فی تولہ 551,662 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 472,961 روپے ہے۔ یہ قیمت گزشتہ دنوں میں 21,000 روپے سے زائد کے اضافے کے بعد ریکارڈ بلندی پر ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، اور پاکستان میں فی تولہ قیمت 5 لاکھ 90 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
سرمایہ کار اب بھی سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کا بہترین ذریعہ سمجھ رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹوں پر پڑ رہا ہے۔شائقین اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تازہ ترین ریٹس اور عالمی رجحانات پر نظر رکھیں، کیونکہ یہ قیمتوں میں تیزی سے تبدیلی لا سکتی ہیں
UrduLead UrduLead