جمعہ , جنوری 30 2026

وزارت صحت کا نیپا وائرس کے خطرے پر الرٹ

وفاقی وزارت قومی صحت خدمات، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے کیسز کے بعد ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

وزارت نے نیپا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری طور پر انتباہ اور تفصیلی ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں تمام انٹری پوائنٹس پر سخت صحت نگرانی اور اسکریننگ کے احکامات دیے گئے ہیں۔

ایڈوائزری کے مطابق بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان (BHS-P) نے تمام ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر “سخت اور بہتر صحت نگرانی” نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان آنے والے تمام مسافروں، ٹرانزٹ مسافروں، عملے، ڈرائیوروں اور سپورٹ سٹاف کی 100 فیصد اسکریننگ لازمی قرار دی گئی ہے۔ ہر مسافر کے لیے تھرمل اسکریننگ اور مکمل طبی معائنہ ضروری ہوگا۔

وزارت کی ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ مسافروں کی گزشتہ 21 دن کی مکمل ٹریول ہسٹری کی تصدیق کی جائے گی۔ نیپا وائرس سے متاثرہ علاقوں یا ہائی رسک زونز سے آنے والے مسافروں پر خصوصی نگرانی رکھی جائے گی۔ اگر کسی مسافر میں نیپا وائرس کی مشتبہ علامات (جیسے بخار، سر درد، سانس کی تکلیف، الٹی، دماغی الجھن وغیرہ) نظر آئیں تو اسے فوری طور پر آئسولیٹ کیا جائے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ بغیر صحت کلیئرنس کے کسی بھی مسافر کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسکریننگ عملے کو نیپا وائرس کی ابتدائی علامات پر انتہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان میں اب تک نیپا وائرس کا کوئی تصدیق شدہ کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ تاہم بھارتی ریاست مغربی بنگال میں دسمبر 2025 سے اب تک دو تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں (جن میں ہیلتھ ورکرز شامل ہیں)، جبکہ کچھ رپورٹس میں 5 کیسز کا ذکر بھی ہے۔

بھارتی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ صورتحال کو کنٹرول کر لیا گیا ہے اور 196 کانٹیکٹس کی ٹیسٹنگ میں سب منفی آئے ہیں۔ نیپا وائرس کی کیس فیٹیلٹی ریٹ 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے، اور اس کی کوئی ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے۔

یہ وائرس بنیادی طور پر چمگادڑوں سے پھیلتا ہے اور انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔یہ اقدامات علاقائی سطح پر بھی نظر آ رہے ہیں۔ تھائی لینڈ، ملائیشیا، ہانگ کانگ، سنگاپور اور نیپال سمیت دیگر ممالک نے بھی بھارت سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ شروع کر دی ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

وفاقی وزارت صحت نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی ممکنہ کیس کی صورت میں فوری رپورٹنگ اور ردعمل یقینی بنائیں۔

شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشتبہ علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر متاثرہ علاقوں سے۔یہ ایڈوائزری WHO کے ساؤتھ ایسٹ ایشیا ریجنل الرٹ کے بعد جاری کی گئی ہے، جس میں نیپا وائرس کو ہائی رسک زون قرار دیا گیا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم فروری 2026 سے نمایاں اضافے کا امکان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے