منگل , جنوری 27 2026

چار سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری

پاکستان چار سال کے طویل وقفے کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں دوبارہ قدم رکھنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اقدام ملک کی معیشت میں نمایاں استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کی گئی سخت اصلاحات کی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ چند سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے تجویز جاری کرے گی۔ حکومت یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ ڈالر، یورو یا اسلامی سکوک بانڈ جاری کیا جائے۔

اس کے علاوہ پاکستان اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ (چینی یوآن میں جاری ہونے والا بانڈ) جلد متعارف کرانے جا رہا ہے، جس کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور رواں ماہ یا فروری میں اس کا اجرا متوقع ہے۔

ابتدائی طور پر 250 ملین ڈالر کے پانڈا بانڈ کا ہدف ہے، جبکہ مجموعی پروگرام ایک ارب ڈالر تک کا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں پاکستانی وفد، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہو چکی ہے اور معدنیات، زراعت، ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان نے معاشی استحکام کے اہم سنگ میل حاصل کر لیے ہیں۔ مہنگائی جو ایک وقت 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب ایک ہندسی سطح پر آ چکی ہے۔ شرح سود میں کمی، مالی خسارہ میں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ بہتر ہونے اور پرائمری سرپلس حاصل کرنے جیسی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی ہے۔ا

نہوں نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر جون تک تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہو جائیں گے، جو عالمی معیار ہے۔ روپیہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مستحکم ہے، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے، سروسز کی برآمدات بڑھ رہی ہیں اور ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا ہے۔

معاشی اصلاحات کے تسلسل کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کا عمل جاری ہے۔ حال ہی میں قومی ایئرلائن (PIA) کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے، جبکہ روزویلٹ ہوٹل میں حکومت کا حصہ فروخت کرنے، بڑے ہوائی اڈوں کے انتظامات آؤٹ سورس کرنے اور تقریباً دو درجن دیگر اداروں کی نجکاری پر غور جاری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت کی ترجیح برآمدات پر مبنی ترقی ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کی وجہ سے بار بار پیدا ہونے والے ادائیگیوں کے بحران سے بچا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے کہا، “ہمیں اصلاحات کے راستے پر ڈٹ کر قائم رہنا ہوگا، کیونکہ یہی پائیدار اور طویل مدتی ترقی کا واحد حل ہے۔” یہ اقدامات پاکستان کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ اعتماد بحال کرنے اور بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد دیں گے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے