
ڈریپ نے ادویات کی قیمتیں بلاجواز بڑھانے والی فارما کمپنیوں کے خلاف سخت ریگولیٹری کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے 37 کمپنیوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، جبکہ مزید شکایات پر فوری کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کرنے والی فارما کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر ضروری قیمتوں میں اضافے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
ڈریپ حکام کے مطابق ڈی ریگولیٹڈ مارکیٹ میں قیمتیں بڑھانے والی کمپنیوں سے بھی جواب طلب کیا جائے گا اور انہیں قیمتوں میں اضافے کی وجوہات سے متعلق تفصیلی وضاحت پیش کرنا ہوگی۔
حکام نے بتایا کہ ڈی ریگولیٹڈ مارکیٹ میں تقریباً 50 ہزار ادویات دستیاب ہیں، تاہم اب تک صرف 92 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
ان 92 ادویات کی قیمتیں بڑھانے پر 37 فارما کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے کی شکایات موصول ہونے پر متعلقہ کمپنیوں کے خلاف بھی فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈریپ کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے سے متعلق ہر شکایت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور کسی بھی کمپنی کو صارفین کے مفادات کے خلاف من مانی قیمتیں مقرر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکام کے مطابق ڈی ریگولیٹڈ مارکیٹ بھی ڈریپ کی نگرانی سے باہر نہیں ہے اور قیمتوں میں اضافے کے ہر معاملے پر ریگولیٹری نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
ڈریپ نے کہا کہ فارما کمپنیوں کے جوابات موصول ہونے کے بعد قانون کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، جبکہ غیر ضروری قیمتوں میں اضافے کے خلاف ریگولیٹری کارروائی بلاامتیاز جاری رہے گی۔
UrduLead UrduLead