
امریکی یونیورسٹی ٹفٹس کے سائنسدانوں نے ایک انقلابی تحقیق کے ذریعے قدرتی شکر ٹاگاٹوز (Tagatose) کی پیداوار کا ایک نیا، انتہائی مؤثر اور سستا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ یہ شکر عام چینی (سکرروز) جیسا ذائقہ رکھتی ہے مگر اس میں کیلوریز تقریباً 60 فیصد کم ہیں اور خون میں گلوکوز یا انسولین کی سطح کو تیزی سے نہیں بڑھاتی۔
تحقیق ٹفٹس یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر نک نیر کی قیادت میں کی گئی، جس میں بائیوٹیک کمپنیوں Manus Bio (امریکہ) اور Kcat Enzymatic (بھارت) نے بھی تعاون کیا۔ نتائج سائنسی جریدے Cell Reports Physical Science میں شائع ہوئے ہیں۔
ٹاگاٹوز قدرتی طور پر پھلوں اور دودھ میں بہت کم مقدار میں پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی کمرشل پیداوار مہنگی اور محدود تھی۔ موجودہ طریقوں میں پیداوار کی شرح کم ہوتی ہے اور لاگت زیادہ۔
نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے ای کولی (E. coli) بیکٹیریا کو جینیاتی طور پر تبدیل کر کے اسے “نانھی فیکٹری” میں بدل دیا۔ یہ بیکٹیریا سستے اور وافر دستیاب گلوکوز کو انتہائی مؤثر انداز میں ٹاگاٹوز میں تبدیل کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اس طریقے سے 95 فیصد تک پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے، جو پرانے طریقوں سے کہیں بہتر ہے۔ ٹاگاٹوز عام چینی کی نسبت 92 فیصد مٹھاس رکھتی ہے مگر کیلوریز صرف ایک تہائی (تقریباً 60 فیصد کم) ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹاگاٹوز کے اہم فوائد یہ ہیں:
- خون میں گلوکوز اور انسولین کی سطح پر کم اثر پڑتا ہے، جو ذیابیطس اور انسولین ریزسٹنس والے افراد کے لیے بہترین متبادل ہے۔
- دانتوں کے لیے محفوظ ہے؛ نقصان دہ بیکٹیریا کی افزائش کم کرتی ہے اور حتیٰ کہ پرو بائیوٹک اثرات رکھتی ہے جو منہ اور آنتوں کی صحت کے لیے مفید ہیں۔
- بیکنگ اور کھانے پکانے میں استعمال کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ “bulk sweetener” ہے جو ذائقہ کے ساتھ ساتھ ساخت بھی برقرار رکھتی ہے۔
ایف ڈی اے نے ٹاگاٹوز کو “generally recognized as safe” قرار دیا ہے، یعنی یہ استعمال کے لیے محفوظ ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طریقے کو مزید بہتر بنا کر صنعتی سطح پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے صحت بخش شکر کا وسیع پیمانے پر استعمال ممکن ہو جائے گا۔ یہ دریافت شوگر انڈسٹری اور صحت کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جو لوگوں کو میٹھی چیزوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دے گی بغیر صحت کے خطرات کے۔
UrduLead UrduLead