منگل , جنوری 27 2026

ہفتہ وار مہنگائی میں 0.12 فیصد اضافہ

ہفتہ وار مہنگائی میں 0.12 فیصد اضافہ، گندم کے آٹے کی قیمتوں میں تیزی

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) نے 8 جنوری 2026 کو ختم ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ میں حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) میں 0.12 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ایس پی آئی کی سطح 334.35 پوائنٹس (بیس 2015-16=100) تک پہنچ گئی ہے، جو پچھلے ہفتے 333.96 پوائنٹس تھی۔

ایس پی آئی ملک میں ضروری اشیا کی قیمتوں میں ہفتہ وار تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے استعمال ہونے والا اہم اشاریہ ہے۔ یہ 51 اشیا کی قیمتوں پر مشتمل ہے جو 17 بڑے شہروں کے 50 بازاروں سے جمع کی جاتی ہیں۔ یہ اشاریہ خاص طور پر نچلے اور متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ پر مہنگائی کے اثرات کا فوری جائزہ پیش کرتا ہے۔

ہفتہ وار بنیاد پر 51 اشیا میں سے 21 (41.18 فیصد) کی قیمتیں بڑھیں، 8 (15.68 فیصد) کی قیمتیں گریں جبکہ 22 (43.14 فیصد) اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ سب سے زیادہ اضافہ گندم کے آٹے میں 5.07 فیصد، چکن 2.86 فیصد، لہسن 2.44 فیصد، مرچ پاؤڈر 1.01 فیصد، ایل پی جی 0.88 فیصد، تیار چائے 0.73 فیصد، شرٹنگ کپڑا 0.61 فیصد، چینی 0.58 فیصد، بریڈ 0.51 فیصد، باسمتی ٹوٹا چاول 0.41 فیصد اور لکڑی 0.25 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ ان میں سے گندم کا آٹا اور چکن جیسے روزمرہ استعمال کی اشیا میں اضافہ عام آدمی کے لیے بوجھ بڑھا رہا ہے۔

دوسری جانب کچھ اشیا کی قیمتیں کم ہوئیں جن میں آلو 3.73 فیصد، پیاز 2.20 فیصد، چنا کی دال 1.51 فیصد، انڈے 1.44 فیصد، ماش کی دال 0.65 فیصد، مسور کی دال 0.38 فیصد، کیلا 0.21 فیصد اور ٹماٹر 0.05 فیصد شامل ہیں۔ سبزیوں کی قیمتوں میں کمی نے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔

سالانہ بنیاد پر ایس پی آئی میں 3.20 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اہم اضافہ گندم کے آٹے میں 31.12 فیصد، گیس چارجز (پہلی سہ ماہی) 29.85 فیصد، بیف 13.15 فیصد، مرچ پاؤڈر 11.43 فیصد، چینی 11.18 فیصد، کیلا اور لکڑی 10.57 فیصد، گڑ 10.50 فیصد، پاؤڈر دودھ 9.51 فیصد، شرٹنگ 8.73 فیصد، پرنٹڈ لان 8.29 فیصد اور انڈے 8.03 فیصد ریکارڈ ہوا۔

سال بھر میں کچھ اشیا کی قیمتیں نمایاں طور پر کم بھی ہوئیں جن میں ٹماٹر 57.04 فیصد، آلو 48.71 فیصد، پیاز 41.33 فیصد، لہسن 36.07 فیصد، چنا کی دال 30.97 فیصد، لپٹن چائے 17.79 فیصد، ماش کی دال 14.34 فیصد، مسور کی دال 8.92 فیصد، ایل پی جی 1.22 فیصد اور ڈیزل 0.30 فیصد شامل ہیں۔مختلف آمدنی گروپس میں اثرات مختلف رہے۔

نچلے اور متوسط طبقے (کوائنٹائل 1 سے 4) میں ہفتہ وار اضافہ 0.12 سے 0.13 فیصد رہا جبکہ سب سے زیادہ آمدنی والے گروپ (کوائنٹائل 5) میں 0.11 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سالانہ بنیاد پر متوسط طبقے (کوائنٹائل 2 اور 3) پر سب سے زیادہ دباؤ رہا جہاں مہنگائی 3.65 فیصد اور 3.43 فیصد تک پہنچی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہفتہ وار اضافہ محدود ہے مگر سالانہ سطح پر خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ معاشی استحکام کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ حکومت کو سبسڈیز، سپلائی مینجمنٹ اور پیداواری لاگت کم کرنے کے اقدامات تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ مہینوں میں مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے