
سری لنکا اور پاکستان کے درمیان تین میچوں کی ٹی20 انٹرنیشنل سیریز کا پہلا میچ آج رات رنگری ڈمبولہ انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
دونوں ٹیمیں اس سیریز کو آئندہ آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کی اہم تیاری کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، جو اگلے مہینے بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو گا۔
ورلڈ کپ کے گروپ مراحل اور ممکنہ سپر ایٹس دونوں ٹیموں کے لیے مکمل طور پر سری لنکا میں کھیلے جائیں گے (اور پاکستان کے لیے ممکنہ طور پر آگے کے مراحل بھی)، اس لیے یہ سیریز مقامی کنڈیشنز سے مانوس ہونے کا بہترین موقع فراہم کر رہی ہے۔
ٹورنامنٹ کا آغاز 7 فروری سے ہو گا، یعنی آج سے ٹھیک ایک مہینے بعد۔پاکستان کی ٹیم زبردست فارم میں سری لنکا پہنچی ہے، جہاں انہوں نے نومبر 2025 میں گھر پر سری لنکا اور زمبابوے کے خلاف ٹرائی سیریز جیت لی تھی، جس میں فائنل میں سری لنکا کو 114 رنز پر روک کر آسانی سے ہدف حاصل کیا۔
سلمان علی آغا کی قیادت میں پاکستان کی ٹیم مستحکم نظر آ رہی ہے، اگرچہ کپتان کی ذاتی کارکردگی ابھی شاندار نہیں رہی۔ بگ بیش لیگ میں مصروف کئی سٹارز جیسے بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی اور حارث روف کی غیر موجودگی میں، شاداب خان کی واپسی ٹیم کو مضبوطی دے رہی ہے۔
اوپنرز صاحبزادہ فرحان اور فخر زمان سے توقعات ہیں کہ وہ ٹون سیٹ کریں گے۔سری لنکا کی ٹیم دوبارہ دسن شناکا کی قیادت میں ہے، جو ٹرائی سیریز کے مشکل دور کے بعد 2022 ایشیا کپ کی فتح کی یاد تازہ کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
نئی سلیکشن کمیٹی نے سیٹ اپ کو تازہ دم کیا ہے اور ہوم ایڈوانٹیج اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ واننڈو ہسرنگا اور مہیش تھیکشانا جیسے اسپنرز ٹرن کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ پاتھم نسانکا اور کوشل مینڈس مضبوط آغاز فراہم کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔
ڈمبولہ کی پچ روایتی طور پر بیٹنگ کے لیے موزوں ہے، جو ابتدائی اوورز میں اچھی رفتار اور کیری پیش کرتی ہے، لیکن بعد میں سلو ہو کر اسپنرز کی مدد کر سکتی ہے۔
موسم کی پیش گوئی کے مطابق نمی ضرور ہو گی لیکن بارش کا امکان کم ہے، جو رات 7 بجے شروع ہونے والے میچ کے لیے مکمل کھیل کا موقع دے رہی ہے۔
بیٹنگ آڈز پاکستان کو تھوڑا فیورٹ قرار دے رہے ہیں (تقریباً 1.71)، جو حالیہ ہیڈ ٹو ہیڈ میں ان کی برتری (پچھلے پانچ ٹی20 میں فتوحات) کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن سری لنکا کی ہوم ریکارڈ اور متوازن اٹیک انہیں خطرناک حریف بناتا ہے۔
یہ سیریز نہ صرف حکمت عملیوں کو بہتر بنانے کا موقع ہے بلکہ کپتانوں کے لیے نسبتاً کم تجربہ کار لائن اپس کو ہائی پریشر کرکٹ میں رہنمائی کرنے کا امتحان بھی ہے۔
UrduLead UrduLead